Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبرانہ مشن

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

جائیں بلکہ وہ ان کے اسرار و معارف تک کو سمجھنے لگیں۔ وہ چیز جن کو دین میں اجتہاد کہا جاتا ہے اس کی صلاحیت بھی اسی تعلیم حکمت کا ایک نتیجہ ہے۔ حکمت کی تعلیم لوگوں کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ مسائل دین پر مجتہدانہ انداز میں سوچ سکیں۔ حکمت آدمی کے اندر اجتہادی بصیرت پیدا کرتی ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ بصیرت پیدا ہو جائے وہ ایک طرف اس قابل ہو جاتے ہیں کہ اعلیٰ ایمانی سطح پر زندگی گزار سکیں۔ دوسری طرف یہی وہ لوگ ہیں جو ملت کی قائدانہ ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہیں۔ وہ اپنے ذہن و فکر کے اعتبار سے اس قابل ہو جاتے ہیں کہ بدلے ہوئے حالات میں دین حق کی صحیح تشریح اور اس کی درست نمائندگی کر سکیں۔ مذکورہ آیت میں پیغمبرانہ مشن کے چار اجزا بتائے گئے ہیں۔ بظاہر اس میں پیغمبر کی زندگی کے کئی اور معلوم اجزا شامل نہیں مثلاً ہجرت، قتال، فتح، نفاذ احکام وغیرہ اس کا سبب کیا ہے، کیوں یہ بقیہ اجزا مذکورہ آیت میں چاروں میں سے کسی مقام پر موجود نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایک چیز ہے پیغمبر کا مشن، اور دوسری چیز ہے پیغمبر کی تاریخ۔ جو چیزیں مذکورہ آیت میں درج نہیں ہیں وہ سب پیغمبر کی تاریخ کے اجزا ہیں نہ کہ اصل مشن کے اجزا۔ مشن صرف ایک ہوتا ہے اور پیغمبر ہمیشہ اور ہر حال میں اس کو پورا کرتا ہے۔ اس کی تکمیل کے بغیر پیغمبر کا اس دنیا سے جانا ممکن نہیں۔ جہاں تک پیغمبر کی تاریخ کا معاملہ ہے اس کا تعلق وقت کے حالات سے ہے جو کبھی یکساں نہیں ہوتے۔ وہ ہمیشہ مختلف اسباب سے بدلتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف پیغمبروں کی تاریخ مختلف انداز میں بنی۔ حالانکہ سب کا مشن ایک تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page