Urdu book · مطالعہ سیرت

اسوہ حسنہ

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

اسوہ حسنہ پیغمبر اسلام ﷺ نے نہ صرف نظری اعتبار سے خدا کے دین کو لوگوں کے سامنے پیش کیا بلکہ عملی طور پر خود بھی پوری طرح اس کی پیروی کی۔ اس لئے آپ بتانے والے بھی ہیں اور بتائی ہوئی بات کا عملی نمونہ دکھانے والے بھی۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة لمن كان يرجوا الله واليوم الآخر وذكر الله كثيراً۔ (الاحزاب۔ ۲۱) تمہارے لئے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے اس شخص کے لئے جو اللہ کا اور آخرت کے دن کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔ یہ آیت غزوہ احزاب (خندق) کے سیاق میں آئی ہے تاہم اصول تفسیر کے مطابق، اس کا اطلاق عام ہے۔ اپنے عمومی مفہوم کے لحاظ سے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف غزوہ احزاب بلکہ ہر اعتبار سے پیغمبر کی زندگی تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ خدا کا سچا بندہ وہ ہے جو خدا کے رسول کو اپنی پوری زندگی کے لئے نمونہ بنالے۔ اسوہ حسنہ کا مطلب، معروف معنوں میں، اسوۂ کاملہ نہیں ہے۔ بلکہ اسوۂ صحیحہ ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بااعتبار فہرست آپ کی زندگی میں ہر قسم کے نمونے پائے جاتے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بااعتبار اصول آپ نے اپنی عملی زندگی میں ان اخلاقی قدروں کا بخوبی مظاہرہ کیا ہے جو انسان کے لئے بہترین اقدار (values) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسوہ حسنہ کو اگر بااعتبار فہرست اسوۂ کاملہ کے معنی میں لیا جائے تو ایسی فہرست نہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں موجود ہے اور نہ کسی ایک شخص کی زندگی میں ”اس نوعیت کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page