اسوہ حسنہ
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
عملی جامعیت "پائی جاسکتی ہے۔ مثلاً فہرست کے نظریہ سے دیکھا جائے تو ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ آپ کی زندگی میں یتیمی کا نمونہ تو موجود ہے مگر غیر یتیمی کا نمونہ موجود نہیں، آپ کی زندگی میں یہ نمونہ تو ملتا ہے کہ لڑکیوں کے ساتھ کوئی باپ کس طرح سلوک کرے مگر کوئی باپ اپنے لڑکوں کی تربیت کس طرح کرے آپ کے یہاں اس کا ذاتی نمونہ نہیں ملے گا۔ اسی طرح کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ آپ کے یہاں نیزہ اور تلوار کے ذریعہ جنگ کا نمونہ تو ہے مگر گن اور میزائل کے ذریعہ جنگ کا نمونہ نہیں۔ آپ کے یہاں روایتی دور کے معاملات کے لئے تو نمونہ ملتا ہے مگر سائنسی دور کے معاملات کے لئے آپ کے یہاں براہ راست نمونہ موجود نہیں وغیرہ۔ رسول اللہ کی زندگی بلا شبہ کامل نمونہ ہے۔ مگر یہ کامل نمونہ اصول کے اعتبار سے ہے نہ کہ انطباق کے اعتبار سے۔ پیغمبر اسلام دراصل اخلاق کے اعلیٰ اصول بتانے کے لئے آئے۔ انھوں نے اس کے مطابق ایک بھر پور زندگی گزاری اور ہر پیش آمدہ معاملہ میں عملی نمونہ قائم کیا۔ اس طرح آپ تمام انسانوں کے لئے ایک بہترین ماڈل بن گئے۔ تاہم یہ ماڈل اصولی مفہوم میں ہے نہ کہ ہر قسم کی عملی تفصیلات کے مفہوم میں۔ مثلاً آپ نے تاجر کا نمونہ پیش کیا تو وہ صرف دیانت داری کے اعتبار سے تھا نہ یہ کہ کمپیوٹر کے دور میں تجارت کے کام کو کس طرح منظم کیا جائے۔ اس سلسلہ میں یہ امر بھی ملحوظ رکھنا چاہئے کہ آپ کے نمونہ کا تعلق ہر ہر انسانی معاملہ سے نہیں ہے بلکہ کچھ بنیادی معاملات سے ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے کھانے کی چیزوں میں کچھ چیزوں کو حرام بتایا اور کچھ چیزوں کو حلال قرار دیا اور حکم دیا کہ حلال چیزوں کو کھاؤ اور حرام سے پر ہیز کرو۔ دوسری طرف تابیر نخل کے مشہور واقعہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader