اسوہ حسنہ
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ نے فرمایا کہ: انتم اعلم بامر دنیاکم (صحیح مسلم بشرح النووی ۱۵/ ۱۱۸) دوسرے لفظوں میں یہ کہ باغبانی (horticulture) جیسے معاملات میں تم کو آزادی ہے، اپنے تجربہ اور ریسرچ کے مطابق، جو طریقہ تم کو مفید معلوم ہو اس پر عمل کرو۔ اب اس معاملہ میں ایک اور پہلو سے غور کیجئے۔ مذکورہ قرآنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں تم کو جو بھی نمونہ ملے اس کو اختیار کر لو اور اپنی زندگی میں اس کی پیروی کرو۔ لیکن گہرائی کے ساتھ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ رسول اللہ کی پیغمبرانہ عمر ۲۳ سال تھی۔ تئیس سال کی اس مدت میں تئیس سے بھی زیادہ مختلف بلکہ بظاہر متضاد نمونے پائے جاتے ہیں۔ مثلاً مکہ میں ابتداء آپ چھپ کر نماز پڑھتے تھے مگر ۱۳ سال بعد جب آپ مدینہ پہنچے تو وہاں آپ نے اعلان کے ساتھ نماز پڑھی۔ مکی زندگی میں ۱۳ سال تک آپ کعبہ میں رکھے ہوئے بت دیکھتے تھے مگر آپ نے کبھی اس کو توڑنے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن فتح مکہ کے بعد آپ نے تمام بتوں کو توڑنے کا حکم دے دیا۔ مکی دور میں آپ صرف عقیدہ توحید اور جنت و جہنم کی آیتیں لوگوں کو سناتے رہے بعد کو مدنی دور میں آپ نے زندگی کے مختلف پہلوؤں سے متعلق عملی احکام بھی لوگوں کو بتائے۔ مکی دور میں آپ نے کعبہ کو اپنا قبلہ عبادت بنایا اور جب آپ مدینہ پہنچے تو تقریباً ۱۶ ماہ تک بیت المقدس کو اپنا قبلہ بنائے رہے۔ مکی دور میں آپ نے باجماعت نماز کا نظام قائم نہیں کیا مگر جب آپ مدینہ پہنچے تو وہاں آپ نے مسجد بنائی اور باجماعت نماز کا نظام قائم فرمایا۔ وغیرہ وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader