اسوہ حسنہ
Urdu book, p. 144
By Maulana Wahiduddin Khan
اب سوال یہ ہے کہ ان مختلف اور بظاہر متضاد نمونوں پر کس طرح عمل کیا جائے۔ یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ ان تمام نمونوں پر ایک وقت میں عمل نہیں کیا جا سکتا، ایک نمونہ پر عمل کرنے کے لئے دوسرے نمونہ کو چھوڑنا پڑے گا۔ مثلاً پیغمبر کی زندگی میں صبر و اعراض کا نمونہ بھی ہے اور جنگ و ٹکراؤ کا نمونہ بھی۔ اب کوئی بھی شخص ایسا نہیں کر سکتا کہ ایک ساتھ اور ایک وقت میں دونوں نمونوں پر عمل کرے۔ وہ جب بھی ایک کو لے گا تو لازمی طور پر اس کو دوسرا نمونہ چھوڑنا پڑے گا۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ہم پیغمبر کے آخری دور کو لیں گے اور اس کے ابتدائی دور کو چھوڑ دیں گے تو یہ بلاشبہ درست نہیں۔ اس لئے کہ پیغمبر کی پوری ۲۳ سالہ زندگی ہمارے لئے نمونہ ہے نہ کہ اس کی وہ زندگی جو اس نے اپنی عمر کے آخری سال میں گزاری۔ پیغمبر کی زندگی کے واقعات میں اس قسم کی تفریق شرعی اعتبار سے بھی غلط ہے اور عقلی اعتبار سے بھی۔ قرآن کی بہت سی آیتیں جو مکہ میں اتریں۔ ان میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ پیغمبر کی اتباع کرو۔ مثال کے طور پر الاعراف ایک کی سورہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم فرمایا: کہو اے لوگو، بیشک میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں۔ وہی جلاتا اور وہی مارتا ہے۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے امی رسول اور نبی پر جو ایمان رکھتا ہے اللہ اور اس کے کلمات پر اور اس کا اتباع کرو تا کہ تم ہدایت پاؤ (الاعراف ۔ ۱۵۸) یہ آیت اور اس طرح کی دوسری آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کی زندگی کا وہ ۱۳ سالہ دور جو مکہ میں گذراہو بھی پورے معنوں میں قابل اتباع ہے۔ وہ بھی اسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader