Urdu book · مطالعہ سیرت

اسوہ حسنہ

Urdu book, p. 145

By Maulana Wahiduddin Khan

طرح اسوہ حسنہ ہے جس طرح بعد کا مدنی دور اسوہ حسنہ ہے۔ دونوں میں اسوہ حسنہ ہونے کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ یہ ایک بے حد غور طلب مسئلہ ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص مطلق طور پر یہ الفاظ بولے کہ جہاد تمام ملی مسائل کا حل ہے تو یہ جملہ اپنے مطلق مفہوم میں صحیح نہ ہوگا کیونکہ ایسا ماننے کی صورت میں پیغمبر کے ان تمام نمونوں کی نفی ہو رہی ہے جبکہ آپ نے جہاد (بمعنی قتال) کا طریقہ اختیار نہیں فرمایا بلکہ صبر اور ہجرت جیسے طریقوں پر عمل فرمایا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ملت مسلمہ کا نصب العین مکمل اسلامی نظام کا قیام ہے تو یہ بیان بھی درست نہ ہوگا کیونکہ اس میں حجتہ الوداع (10ھ) سے پہلے کی پوری پیغمبرانہ زندگی محذوف اور منسوخ قرار پاتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے اسلام کے کئی احکام کی تکمیل آخر میں حجۃ الوداع کے موقع پر ہوئی، اس سے پہلے نہ یہ احکام موجود تھے اور نہ قرآن کا نزول مکمل ہوا تھا، ایسی حالت میں اسوہ حسنہ کا مطلب یہ لینا پڑے گا کہ رسول اللہ کی زندگی کا وہ آخری دور تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہے جبکہ قرآن مکمل طور پر نازل ہو گیا اور وہ واقعہ ظہور میں آگیا جس کو قرآن میں اکمال دین کہا گیا ہے (المائدہ۔1) مگر مذکورہ آیت کا ایسا مفہوم لینا شرعاً اور عقلاً دونوں اعتبار سے درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ کی پیغمبرانہ زندگی کی پوری مدت ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے نہ کہ اس کا کوئی جزء۔ آپ کے قائم کئے ہوئے نمونوں میں سے کوئی بھی نمونہ نہ تو متروک ہے اور نہ غیر مطلوب۔ اس سوال کا یہ جواب بھی درست نہیں کہ یہ سارا معاملہ تدریج کا معاملہ ہے۔ یعنی پیغمبر اسلام کا آخری مقصود تو وہی تھا جس کا نمونہ حجۃ الوداع کے بعد آپ کی زندگی میں ملتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page