Urdu book · مطالعہ سیرت

اسوہ حسنہ

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ اس سے پہلے کے جو نمونے ہیں وہ تدریج اور ترتیب کے اصول پر ابتدائی مراحل کے نمونے ہیں نہ کہ آخری یا تکمیلی مرحلہ کا نمونہ۔ یہ تاویل بھی واضح طور پر غلط ہے اور خود قرآن کے بیانات صریح طور پر اس کی تردید کرتے ہیں۔ مثلاً قرآن میں رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا گیا کہ تم ملت ابراہیم کی پیروی کرو (النحل۔ ۱۲۳) جیسا کہ معلوم ہے کہ حضرت ابراہیم نے فہرست احکام کے معنی میں کوئی جامع شریعت پیش نہیں فرمائی۔ آپ کی ساری عمر دعوت توحید پر مرکوز رہی، اجتماعی احکام کا نفاذ یا حکومت کے قیام جیسے نمونے آپ کی زندگی میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ ایسی حالت میں مذکورہ تعبیر کے مطابق، اس کا مطلب یہ قرار پاتا ہے کہ جامع شریعت والے پیغمبر کو ناقص شریعت والے پیغمبر کی اتباع کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح قرآن میں مختلف نبیوں کا ذکر کرنے کے بعد پیغمبر اسلام ﷺ سے فرمایا گیا کہ یہ سب انبیاء خدا کے راستے پر تھے، تم بھی انہی کے راستے کی پیروی کرو (الانعام۔ ۹۰) مذکورہ صورت میں جن نبیوں کا ذکر ہے، ان کے متعلق خود قرآن کے بیان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ مذکورہ مفہوم میں "جامع شریعت" کے حامل نہ تھے بلکہ صرف توحید اور اخلاق جیسی اصولی تعلیمات ہی ان پر اتری تھیں۔ ایسی حالت میں اگر مذکورہ تعبیر کو درست مانا جائے تو دوبارہ یہ کہنا پڑے گا کہ اس آیت میں جامع شریعت والے ایک پیغمبر کو ایسے نبیوں کی پیروی کا حکم دیا گیا جن کے یہاں صرف "ناقص شریعت" کا نمونہ پایا جاتا تھا۔ تکلیف با اعتبار حالات اصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی تئیس سالہ زندگی کے مختلف نمونوں میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page