Urdu book · مطالعہ سیرت

اسوہ حسنہ

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

سے ہر نمونہ بجائے خود اسوہ حسنہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر نمونہ اپنی ذات میں کامل نمونہ ہے۔ ہر نمونہ یکساں طور پر مطلوب نمونہ ہے۔ ایک نمونہ اور دوسرے نمونہ میں مطلوبیت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت کے مسلمہ اصول کے مطابق، آدمی اپنے حقیقی حالات کے اعتبار سے مکلف ہے نہ کہ کسی مفروضہ آخری نصب العین کے اعتبار سے (البقرہ۔ ۲۸۶) اسلام کا مقصود یہ نہیں کہ اہل اسلام کسی خارجی نشانہ (کامل نظام اسلامی کا قیام) کو اپنا مطلق ہدف بنالیں۔ یعنی کسی آدمی کا اسلامی ہدف کیا ہو، یہ اس کے اپنے حقیقی حالات سے متعین ہوتا ہے نہ کہ خارجی طور پر وضع کئے ہوئے کسی مفروضہ نصب العین سے۔ اس تشریح کے مطابق، اسوہ حسنہ کی آیت کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے نمونوں میں سے ہر نمونہ تمہارے لئے قابل اتباع ہے۔ تم کو یہ کرنا ہے کہ تم اپنے آپ کو جن حالات میں پاؤ اس کو سامنے رکھ کر پیغمبر کی زندگی کا مطالعہ کرو۔ پیغمبر کی زندگی میں ان مخصوص حالات سے مطابقت کرتا ہوا جو نمونہ بھی ملے اس کو تم مکمل طور پر اختیار کر لو۔ پیغمبر پر ہر قسم کے احوال گزرے۔ اس اعتبار سے پیغمبر کی زندگی میں ہر قسم کے احوال کے لئے نمونے موجود ہیں۔ اب خدا کے بندوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جس صورت حال میں پائیں اس کو سامنے رکھ کر یہ دیکھیں کہ اس کے مماثل صورت حال جب پیغمبر پر پیش آئی تو اس وقت انھوں نے کیا روش اختیار کی تھی اور پھر اس روش کو بھر پور طور پر پکڑ لیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی میں نمونوں کے فرق کو عام طور پر ناسخ اور منسوخ کا معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ جب قتال کی آیتیں اتریں تو صبر واعراض کا حکم منسوخ ہو گیا مگر نسخ کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page