اسوہ حسنہ
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ مطلق تصور درست نہیں۔ نسخ کا مطلب حالات کے مطابق احکام کا انطباق ہے نہ کہ ایک حکم کو ابدی طور پر متروک قرار دے کر اس کی جگہ دوسرے حکم کو ابدی طور پر قائم کرنا۔ جب بھی حالات تقاضا کریں تو منسوخ حکم دوبارہ مطلوب بن جائے گا اور بعد کے دور میں بھی اس سابقہ حکم پر اسی طرح عمل کیا جائے گا جس طرح اس پر پچھلے حالات میں کیا گیا تھا۔ مثلاً (بدر ۲ھ) کے موقع پر آپ نے حکم صبر کے بجائے حکم قتال پر اس طرح عمل فرمایا کہ آپ مدینہ سے باہر نکلے اور آگے بڑھ کر بدر کے مقام پر مشرکین سے جنگ کی مگر اس کے بعد کئی مواقع پر آپ نے مشرکین کے مسلح چیلنج کے جواب میں دوبارہ صابرانہ روش اختیار کی۔ مثلاً احزاب (۵ھ) کے موقع پر مشرکین نے مسلح چیلنج دیا تو آپ مدینہ میں ٹھہرے رہے اور لمبی خندق کھود کر یہ تدبیر فرمائی کہ مشرکین آگے نہ بڑھ سکیں تاکہ جنگ کی نوبت ہی نہ آئے۔ یہ واضح طور پر صبر کی روش تھی نہ کہ قتال کی روش۔ بتوں کے سلسلہ میں پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی میں دو مختلف نمونے ملتے ہیں۔ مکی دور میں آپ نے کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کو کبھی توڑنے کی کوشش نہیں کی بلکہ عملی طور پر ان سے اعراض فرماتے رہے۔ مگر ہجرت (۸ھ) کے بعد مکہ فتح ہوا تو اس کے بعد آپ نے اس سے مختلف نمونہ قائم فرمایا یعنی تمام بتوں کو توڑ کر انہیں کعبہ سے نکال دیا۔ ان دو مختلف سنتوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کے بعد کے زمانہ میں آپ کی سنت صرف بت شکنی ہے اور بتوں سے اعراض کرنے کی سنت ہمیشہ کے لئے منسوخ ہوگئی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مکی دور جیسے حالات ہوں تو اس وقت آپ کی سنت بتوں سے اعراض کرنا ہوگا اور جب فتح مکہ جیسی صورت پائی جائے تو حسب حالات دوسرے نمونہ کو آپ کی سنت قرار دیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader