اسوہ حسنہ
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
واضح ہو کہ بت شکنی اسلام کا کوئی عمومی حکم نہیں ہے۔ فتح مکہ کے بعد کعبہ کے بتوں کو توڑنا اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے بت شکنی نہیں تھی بلکہ وہ کعبہ کی تطهیر (purification) کا معاملہ تھا۔ یہ گویا کعبہ سے ناجائز قبضہ کو ختم کرنا تھا، نہ کہ حقیقتاً بتوں کو توڑنا۔ اسی طرح مثلاً آپ نے مکہ کے ابتدائی تقریباً نصف زمانہ میں بلا اعلان نماز پڑھی۔ اس کے بعد جب ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو یہاں آپ نے اعلان کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کیا۔ آپ کی ان دو سنتوں کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ اب ہمیشہ کے لئے اعلان کے ساتھ نماز پڑھنا ہی آپ کی واحد سنت ہے اور بلا اعلان یا خفیہ طور پر نماز پڑھنا اب ہمیشہ کے لئے ایک منسوخ حکم بن چکا ہے۔ بلکہ حالات کے اعتبار سے دونوں ہی طریقے یکساں طور پر مطلوب ہیں، جب مدنی دور جیسے حالات ہوں تو اس وقت اعلان کے ساتھ نماز پڑھنا رسول اللہ کی سنت قرار پائے گا جو آپ نے مکی دور میں اختیار فرمایا۔۔۔۔۔۔۔۔اسی پر دوسرے تمام نمونوں کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی ملحوظ رکھنا چاہئے کہ ان مختلف پیغمبرانہ نمونوں میں سے کوئی نمونہ نہ کمتر ہے اور نہ برتر، نہ کوئی ناقص ہے اور نہ کوئی کامل، نہ کوئی ابدی ہے اور نہ کوئی غیر ابدی۔ ہر وہ نمونہ جو پیغمبر کی زندگی میں پایا جائے وہ خود اپنے ذات میں اسوہ حسنہ ہے۔ ہر نمونہ یکساں طور پر پیغمبر کی مطلوب سنت ہے۔ ان مختلف سنتوں میں سے اپنے حالات کے اعتبار سے جس سنت پر بھی عمل کیا جائے گاوہ پیغمبر کی کامل پیروی کے ہم معنی ہو گا اور اخلاص کی شرط کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے یہاں پورے ثواب کا مستحق قرار پائے گا۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اے ایمان لانے والو، اطاعت میں پوری طرح داخل ہو جاؤ (البقرہ ۲۰۸) اس آیت کے مطابق ہر شخص سے اسلام کی کامل پیروی مطلوب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader