Urdu book · مطالعہ سیرت

مطالعہ سیرت

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

راست عملی نمونہ موجود ہے۔ مگر بطور واقعہ ایسی کاملیت ممکن ہی نہیں۔ مثال کے طور پر ایک آدمی رسول اللہ کے یہاں بیٹی کی تربیت کا نمونہ تو پاسکتا ہے۔ مگر بیٹے کی تربیت کا نمونہ رسول اللہ کے یہاں اس کو نہیں ملے گا۔ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کا نمونہ تو آپ کے یہاں ملے گا، مگر والدین کے ساتھ حسن سلوک کا نمونہ آپ کے یہاں موجود نہیں۔ اس معاملہ میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی حیثیت اسوۂ حسنہ کی ہے نہ کہ اسوۂ کاملہ کی۔ یہی تصور قرآن سے ثابت ہے اور یہی علمی طور پر درست ہے۔ ایک غلطی جو بیشتر سیرت نگاروں کے یہاں پائی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ انہوں نے پیغمبر کو داعی کے بجائے حاکم سمجھ لیا۔ اس غلط نہی کا عکس سیرت کی اکثر کتابوں میں پایا جاتا ہے۔ سیرت کی معروف کتابیں پیغمبر کو داعی اور ناصح کے روپ میں پیش نہیں کرتے بلکہ وہ اس کو حاکم اور فاتح کے روپ میں پیش کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کتابوں میں پیغمبر کی اصل شخصیت نمایاں نہیں ہوتی۔ علمی مطالعہ کے بجائے عقیدت مندانہ مطالعہ سے یہ نقصان ہوا کہ ہمارے سیرت نگار بہت سی ایسی حقیقتوں کو دریافت نہ کر سکے جو قرآن میں صراحتہً مذکور تھیں۔ انہیں میں سے ایک معجزہ کا مسئلہ ہے۔ ہمارے سیرت نگار عام طور پر کثرت سے پیغمبر اسلام کے معجزات کا ذکر کرتے ہیں۔ مگر یہ پورا تصور قرآن کے خلاف ہے۔ قرآن میں واضح طور پر بتا یا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کو اس قسم کے معجزے نہیں دیے گئے جو پچھلے پیغمبروں کو دیے گئے تھے۔ پیغمبر اسلام ﷺ سے آپ کے مخاطبین یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اگر تم پیغمبر ہو تو دوسرے نبیوں جیسا کسی معجزہ ہمیں دکھاؤ۔ پیغمبر اسلام ﷺ لوگوں کی ہدایت کی امید میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page