اسوہ حسنہ
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ مگر کامل پیروی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بیک وقت تمام احکام کی مجموعی پیروی کروایا یہ کہ تمام احکام کی مجموعی پیروی کو نشانہ بنا کر اس کے لئے نظام اسلامی کے نفاذ کی تحریک چلاؤ۔ اس آیت کا مطلب صرف یہ ہے کہ باعتبار حالات تم جس حکم اسلام کے مخاطب بن رہے ہو، اس کو اختیار کرنے میں کوئی کمی نہ کرو۔ اس کی پیروی میں کسی کوتاہی کا ہرگز ارتکاب نہ کرو۔ مثلاً آدمی ایسے حالات میں ہے جہاں نماز کی ادائیگی آزادانہ طور پر ممکن ہے تو ایسے حالات میں نماز کا وقت آنے کے بعد نماز کی باقاعدہ ادائیگی اس پر ضروری ہوگی۔ اسی طرح اہل اسلام اگر ایسے حالات میں ہیں جہاں انھیں دعوت دین کا عمل کرنے کی آزادی ہے تو ان کے اوپر لازم ہوگا کہ وہ دعوت کی ادائیگی میں پوری طرح مصروف ہوں، وہ تمام ضروری تدبیروں کو کام میں لاتے ہوئے حسن وخوبی کے ساتھ کامل طور پر دعوت کا عمل انجام دیں۔ اسی طرح حالات وقت کے مطابق اگر ان کے لئے یہ مواقع موجود ہیں کہ وہ مسلمانوں کو معروف کی تاکید کریں اور اگر کوئی مسلمان کسی منکر کا ارتکاب کرے تو حسب حالات انفرادی یا اجتماعی طور پر اس کو ارتکاب منکر سے روکنے کی کوشش کریں، ایسے حالات کی موجودگی میں تمام مسلمانوں پر حسب استعداد اس فریضہ کی کامل ادائیگی بھی ضروری ہوگی وغیرہ۔ خلاصہ یہ کہ ”کامل پیروی کا تعلق فہرست احکام سے نہیں ہے بلکہ اس مخصوص اور متعین حکم سے ہے جو بروقت اہل اسلام پر شرعا عائد ہو رہا ہو ۔ بالفاظ دیگر، اس سے مراد ہر ایک سنت نبوی کی کامل پیروی ہے نہ کہ تمام نبوی سنتوں کی مجموعی پیروی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader