Urdu book · مطالعہ سیرت

ختم نبوت

Urdu book, p. 152

By Maulana Wahiduddin Khan

میں قوم کا خاتم قوم کے آخری شخص کو کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ شخص جس کے بعد فہرست میں کسی اور شخص کا نام باقی نہ رہے (خاتم القوم آخرہم) یہاں خاتم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب محمد ﷺ کی مہر (اسٹیمپ) کی تصدیق سے انبیاء آئیں گے۔ جیسا کہ غلط طور پر کچھ مدعیان نبوت کہتے ہیں۔ یہ مفہوم عربی زبان و ادب کے سراسر خلاف ہے۔ مزید یہ کہ اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو خود محمد ﷺ کا اعلان اس کے دعویٰ کی کھلی تردید کر رہا ہے کیونکہ آپ نے ثابت شدہ طور پر یہ فرما دیا کہ میرے اوپر نبوت ختم ہو گئی، اب قیامت تک کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ یہ بات متواتر روایات سے ثابت ہے۔ اس سلسلہ میں یہاں چند حدیثیں نقل کی جاتی ہیں۔ ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول رسالت اور نبوت منقطع ہو گئی بعدی ولا نبی (احمد والترمذی) پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی۔ جئت فختمت الانبیاء علیہم السلام (مسلم) میں آیا پس میں نے نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم کر دیا۔ ختم بی الا نبیاء علیہم الصلاة والسلام (البخاری) مجھ پر نبیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ ختم بی النبیون (الترمذی) مجھ پر نبیوں کی آمد ختم ہو گئی ۔ انا العاقب الذی لیس بعده نبی (صحیحین) میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ انا محمد النبی الامی ولا نبی بعدی (احمد) میں محمد ہوں امی پیغمبر، اور میرے بعد کوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page