ختم نبوت
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
نبی نہیں۔ مفسر ابن کثیر نے اس سلسلہ کی روایتوں کو تفصیل کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔ وہاں انہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر جلد ۳، صفحہ ۴۹۳۔ ۴۹۴ سورۃ الاحزاب کی مذکورہ آیت کے علاوہ قرآن میں اور بھی آیتیں ہیں جو بالواسطہ انداز میں اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ پیغمبر اسلام ﷺ کے بعد اب نہ کوئی نبی آنے والا ہے اور نہ خدائی منصوبہ کے مطابق کسی اور نبی کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں ایک آیت یہ ہے۔ اليوم يئس الذين كفروا من دينكم فلا تخشوهوم واخشون اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دینا (المائده ۳) آج انکار کرنے والے تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے۔ پس تم ان سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔ " آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کر دیا‘‘ یعنی تم کو جو احکام دئے جانے تھے وہ سب دے دئیے گئے۔ تمہارے لئے جو کچھ بھیجنا مقدر تھا وہ سب بھیجا جا چکا۔ یہاں مطلق معنوں میں دین کے کامل کئے جانے کا ذکر نہیں ہے بلکہ امت محمدی پر جو قرآن نازل ہونا شروع ہوا تھا اس قرآن کے پورے ہونے کا اعلان ہے۔ یہ نزول کی تکمیل کا ذکر ہے نہ کہ دین کی تکمیل کا۔ اسی لئے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ ” آج میں نے دین کو کامل کر دیا“ بلکہ یہ فرمایا کہ ”آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کر دیا“ حقیقت یہ ہے کہ خدا کا دین ہر زمانہ میں اپنی کامل صورت میں انسان کو دیا گیا ہے۔ خدا نے کبھی ناقص دین انسان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader