ختم نبوت
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
کے پاس نہیں بھیجا۔ قرآن کو ماننے والی امت کو خدا نے اتنی مضبوط بنیادوں پر قائم کر دیا ہے کہ وہ اپنی امکانی قوت کے اعتبار سے ہر بیرونی خطرہ کی زد سے باہر جا چکی ہے۔ اب اگر اس کو کوئی نقصان پہنچے گا تو اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے نہ کہ خارجی حملوں کی وجہ سے۔ اور اندرونی کمزوریوں سے پاک رہنے کی سب سے بڑی ضمانت یہ ہے کہ اس کے افراد اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ اس آیت میں ”اکمال دین“ سے مراد فہرست احکام کی تکمیل نہیں ہے، یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق جو ممکن احکام ہیں وہ سب کے سب پیغمبر آخرالزماں پر اتار دئے گئے۔ اس آیت میں اکملت لكم دينكم سے مراد احکام و مسائل کی تکمیل نہیں ہے بلکہ اس سے مراد دین کا استحکام ہے۔ یعنی اب خدا کا دین مستحکم بنیادوں پر قائم ہو چکا ہے۔ اس کا یہ استحکام اتنا زیادہ مکمل ہے کہ وہ اہل انکار یا اہل باطل کی ہر سازش کی زد سے باہر آ چکا ہے۔ اب قیامت تک کسی کی مخالفانہ تدبیریں اس کو نقصان پہنچانے والی نہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں صحیح قول وہ ہے جس کو مفسر النسفی نے اپنی تفسیر میں درج کیا ہے۔ انہوں نے اس آیت کے تحت لکھا ہے: (اکملت لكم دينكم) بان كفيتم خوف عدوكم واظهرتكم عليهم كما يقول الملوك اليوم كمل لنا الملك اى كفينا من كنا نخافه (تفسير النسفي ۱/ ۲۷۰) (میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا) اس طرح کہ تم کو تمہارے دشمن کے خوف سے محفوظ کر دیا۔ اور تم کو ان کے اوپر غالب کر دیا۔ جس طرح بادشاہ کہتے ہیں کہ آج ہمارا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader