ختم نبوت
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
اقتدار مستحکم ہو گیا۔ یعنی جن سے ہمیں خوف تھا ان سے ہم محفوظ ہو گئے۔ یہ آیت بالواسطہ انداز میں ختم نبوت کا ایک اعلان ہے۔ کسی نئے نبی کی آمد اس وقت ہوتی ہے جب پچھلے پیغمبر کے ذریعہ آیا ہوا دین اصل صورت میں موجود نہ رہے۔ دنیا خدا کی سچی رہنمائی (نہ کہ کامل رہنمائی) سے محروم ہو گئی ہو، اب جب کہ دین کا استحکام اس بات کی ضمانت بن گیا کہ کوئی بھی سازش یا مخالفانہ تدبیر خدا کے دین کی حقیقی صورت کو بگاڑ نہ سکے تو ایسی حالت میں کسی نئے نبی کے آنے کی ضرورت سرے سے باقی نہیں رہتی۔ موجودہ زمانہ میں بعض خود ساختہ مدعیان نبوت اٹھے اور انھوں نے نیا مذہب بنایا مثلاً بہاء اللہ (وفات ۱۸۹۲) اور ہندوستان کے مرزا غلام احمد قادیانی (وفات ۱۹۰۸) ان لوگوں نے اپنے نبوت کے حق میں مشترک طور پر یہ دلیل دی کہ اب زمانہ بدل گیا ہے، انسانیت روایتی دور سے نکل کر سائنسی دور میں یا دستکاری کے دور سے آگے بڑھ کر مشینی دور میں داخل ہو گئی ہے۔ اس بنا پر یہ ضرورت پیش آگئی کہ انسان کو بدلے ہوئے حالات کے مطابق از سرِ نور رہنمائی دی جائے ۔ اس مقدمے کی بنیاد پر انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہم کو خدا نے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے نبی بنایا ہے۔ اور اپنا کلام ہمارے اوپر اتارا ہے۔ یہ دلیل سراسر بے بنیاد اور غیر متعلق ہے۔ یہ بات بجائے خود درست ہے کہ موجودہ زمانہ میں تمدن اور ٹکنالوجی کے اعتبار سے بہت زیادہ تبدیلیاں ہوئی ہیں مگر ان چیزوں کا کوئی بھی تعلق وحی و نبوت سے نہیں ہے۔ تمدنی اسباب و ذرائع کا تعلق ان چیزوں سے ہے جن کے متعلق پیغمبر اسلام علیہ السلام نے فرمایا کہ: انتم اعلم بامر دنیا کم (تم اپنی دنیا کے معاملہ کو زیادہ جانتے ہو) صحیح مسلم بشرح النووی ۱۱۸/۱۵

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader