Urdu book · مطالعہ سیرت

ختم نبوت

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کا پیغمبر زندگی کے اصول بتانے کے لئے آتا ہے۔ وہ تمدنی اسباب و ذرائع کو بتانے کے لئے نہیں آتا۔ اس لئے تمدنی ترقی کے حوالے سے نئے پیغمبر کی آمد پر دلیل لانا سراسر بے بنیاد بات ہے، اس کا تعلق نہ شریعت سے ہے اور نہ عقل سے۔ سر ظفر اللہ خاں ایک قادیانی تھے، انھوں نے قادیانیت کی حمایت میں ایک انگریزی کتاب لکھی ہے۔ وہ مرزا غلام احمد کو دورِ حاضر کا نبی مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ زمانہ ایک بدلا ہوا زمانہ ہے اور اس بدلے ہوئے زمانے میں خدا کی رہنمائی حاصل کرنے کے لئے دوبارہ ایک نبی کی ضرورت ہے۔ مرزا غلام احمد اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اٹھائے گئے۔ یہ استدلال محض ایک مغالطہ ہے۔ نبی کا تعلق زمانہ کی تبدیلی سے نہیں ہے بلکہ اس بات سے ہے کہ خدائی متن محرف یا غیر موجود ہو گیا ہو۔ زمانہ ہمیشہ بدلتا رہتا ہے اور زمانے کی تبدیلی کے اعتبار سے ضرورت ہوتی ہے کہ دین حق کی دوبارہ تشریح کی جائے۔ مگر تشریح نو کا یہ کام علماء اور مجتہدین انجام دیتے ہیں۔ اس کے لئے نئے نبی کی بعثت کی کوئی ضرورت نہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن کامل طور پر اپنی اصل حالت میں آج بھی موجود ہے۔ اس کے متن میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور جب خدا کا کلام قرآن کی صورت میں محفوظ ہے تو نئے نبی کی آمد کا بھی کوئی سوال نہیں۔ اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مدعیان نبوت نے یہ کہا کہ موجودہ صنعتی دور میں جو مسائل پیدا ہوئے ہیں ان میں سے ایک مسئلہ مشترک سماج کا ہے۔ صنعتی انقلاب کے نتیجہ میں ساری دنیا میں نقل و حرکت بڑھ گئی اس کے نتیجہ میں ایک نئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page