Urdu book · مطالعہ سیرت

ختم نبوت

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

صورت حال پیدا ہوئی جبکہ کسی ایک ملک میں کئی مذہب کے لوگ آکر آباد ہو گئے۔ اس طرح اکثر ملکوں میں مشترک مذہبی سماج (ملٹی ریلیجس سوسائٹی) قائم ہو گئی۔ انھوں کہا کہ اسلام میں واحد مذہبی سماج (یونی ریلیجس سوسائٹی) کے احکام تو موجود ہیں مگر مشترک مذہبی سماج کے احکام موجود نہیں۔ اس نئی ضرورت کا تقاضا ہے کہ دوبارہ ایک نبی آئے جو اس مسئلہ کے بارے میں خدائی احکام کو بتائے۔ ان مدعیان نبوت نے اس مسئلہ کا حل یہ بتایا کہ صداقت ہر مذہب میں پائی جاتی ہے اور اس کا اشارہ خود قرآن کی اس آیت میں موجود ہے وانہ لفی زبرالاولین (الشعراء۔۱۹۶) انھوں نے کہا کہ چونکہ صداقت ہر مذہب میں موجود ہے اس لئے ہر مذہب والوں کو دوسرے مذہب پر اسی طرح اعتقاد رکھنا چاہئے جس طرح وہ خود اپنے مذہب پر اعتقاد ر کہتے ہیں۔ مگر یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کے بارے میں خدائی حکم بتانے کے لئے کسی نے نبی کی آمد ضروری ہو جائے ۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس سوال کا واضح جواب خود پیغمبر اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت میں موجود ہے۔ آپ جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو اس وقت وہاں مسلمانوں کے ساتھ یہودی اور مشرکین بھی موجود تھے گویا اس وقت مدینہ ایک مشترک مذہبی سماج کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا کہ ایک منشور جاری فرمایا جس کو عام طور پر صحیفہ مدینہ کہا جاتا ہے۔ اس میں پیغمبر اسلام کی انتظامی قیادت کو مانتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ ہر مذہبی گروہ کے معاملات اس کی اپنی مذہبی اور قبائلی روایات کے مطابق طے کئے جائیں گے۔ اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ مشترک سماج کی تنظیم اس طرح کی جائے گی کہ مرکزی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page