Urdu book · مطالعہ سیرت

ختم نبوت

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

انتظام زیادہ تر اکثریتی گروہ کے ہاتھ میں ہوگا مگر اسی کے ساتھ ہر مذہبی یا کلچرل گروہ کو یہ حق ہوگا کہ وہ اپنے عقائد کے مطابق اپنے داخلی معاملات کی تنظیم کر سکیں۔ دوسری بات یہ کہ مشترک سماج میں پرامن ماحول پیدا کرنے کا مسئلہ بجائے خود کوئی مذہبی مسئلہ نہیں۔ یہ اس سے الگ ایک مسئلہ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اگر ہر مذہبی گروہ دوسرے مذہب والوں کو سچا سمجھنے لگے تو وہاں امن قائم ہو جائے گا۔ امن پسندانہ زندگی کے لئے اصل میں جس چیز کی اہمیت ہے وہ ٹالرنس (رواداری) کا جذبہ ہے۔ جس سماج کے لوگوں کے اندر ٹالرنس کا جذبہ ہو وہاں امن ہو گا اور جہاں ٹالرنس کا جذبہ نہ ہو وہاں ٹکراؤ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ٹکراؤ کے واقعات مشترک اور غیر مشترک دونوں قسم کے سماج میں یکساں طور پر باقی رہتے ہیں۔ مثلاً مہا بھارت کی لڑائی خود ہندوؤں کے دو گروہوں کے درمیان ہوئی، دوسری عالمی جنگ جن دو فریقوں کے درمیان ہوئی وہ دونوں کے دونوں عیسائی تھے۔ افغانستان اور دوسرے ملکوں میں خود مسلمان دو گروہ بن کر ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں وغیرہ۔ اس معاملہ کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ سماجی امن کا راز باہمی اعتراف (mutual recognition) میں نہیں ہے بلکہ باہمی احترام (mutual respect) میں ہے۔ یہ مسئلہ مشترک اعتقاد کا نہیں ہے۔ بلکہ مشترک احترام کا ہے۔ اسلام میں اس مسئلہ کا یہی حل بتایا گیا ہے۔ قرآن میں اور بھی متعدد آیتیں ہیں جن کا تعلق اسی ختم نبوت کے مسئلہ سے ہے۔ اس سلسلے میں ایک متعلق آیت یہ ہے۔ ومن الليل فتهجد به نافلة لك عسى أن يبعثك ربك مقاماً

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page