ختم نبوت
Urdu book, p. 159
By Maulana Wahiduddin Khan
محمودداً (بنی اسرائیل ۷۹) اور رات کو تہجد پڑھو۔ یہ نفل ہے تمہارے لئے۔ امید ہے کہ تمہارا رب تم کو مقام محمود پر کھڑا کرے۔ مقام محمود کے لفظی معنی ہیں تعریف کیا ہوا مقام۔ اس محمودیت کا ایک دنیوی پہلو ہے اور ایک اس کا اخروی پہلو۔ اخروی پہلو وہ ہے جس کو مفسرین شفاعت کبریٰ کہتے ہیں۔ جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے، قیامت کے دن تمام انبیاء، اپنے مومنین کی شفاعت کریں گے۔ یہ شفاعت گویا ان کے مومن ہونے کی تصدیق ہوگی جس کے بعد ان لوگوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا جن کو خدا جنت میں داخل کرنا چاہے۔ رسول اللہ ﷺ کی شفاعت سب سے بڑی ہوگی۔ کیونکہ اپنے امتیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہونے کی وجہ سے آپ سب سے بڑے گروہ کی شفاعت فرمائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ کی محمودیت کا دنیوی پہلو یہ ہے کہ آپ کے ساتھ ایسی تاریخ جمع ہو جائے کہ آپ تمام اقوام عالم کی نظر میں مسلمہ طور پر قابل ستائش اور لائق اعتراف بن جائیں۔ خدا کا یہ منصوبہ آپ کے حق میں مکمل طور پر پورا ہوا۔ آج دنیا کے تمام لوگ آپ کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ آپ کی نبوت ایک مسلم نبوت بن چکی ہے نہ کہ نزاعی نبوت جیسا کہ آپ کے ظہور کے ابتدائی سالوں میں تھی۔ محمودی نبوت، دنیوی اعتبار سے مسلمہ (established) نبوت کا دوسرا نام ہے۔ یعنی ایسی نبوت جس کے حق میں تاریخی شہادتیں اتنی زیادہ کامل طور پر موجود ہوں کہ آپ کی شخصیت اور آپ کی تعلیمات کے بارہ میں کسی کے لئے شبہ کی گنجائش نہ رہے۔ انسان خود اپنے مسلمہ علمی معیار کے مطابق آپ کی حیثیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جائے۔ اقرار یا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader