مطالعہ سیرت
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ چاہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا کوئی معجزہ ظاہر کیا جائے۔ مگر قرآن میں آپ کی اس خواہش کو رد کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا: "اور اگر ان کی بے رخی تم پر گراں گزر رہی ہے تو اگر تم ایسا کر سکتے ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈھو یا آسمان میں سیڑھی لگاؤ اور ان کے لئے کوئی نشانی (معجزہ) لے آؤ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا۔ پس تم نادانوں میں سے نہ بنو (الأنعام (۳۵) دوسری جگہ قرآن میں اس مستقل پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے کہ پچھلے پیغمبروں کے بر عکس، پیغمبر آخر الزماں کو حسی معجزے نہیں دیئے جائیں گے۔ قرآن کی درج ذیل آیت اس کے حق میں ایک قطعی ثبوت ہے : وما منعنا ان نرسل با لايات الا ان كذب بها الا ولون واتينا ثمود الناقة مبصرة فظلموا بها وما نرسل بالايات الا تخويفا (بنی اسرائیل (۵۹) اور ہم کو نشانیاں (معجزے) بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس چیز نے کہ اگلوں نے ان کو جھٹلایا۔ اور ہم نے ثمود کو اونٹنی دی ان کو سمجھانے کے لئے۔ پھر انھوں نے اس پر ظلم کیا۔ اور نشانیاں ہم صرف ڈرانے کے لئے بھیجتے ہیں۔ یہ غیر علمی مطالعہ کی ایک واضح مثال ہے۔ ہمارے سیرت نگاروں کو محسوس ہوا کہ اگر وہ یہ مان لیں کہ پیغمبر اسلام کو حسی معجزے نہیں دیئے گئے تو وہ پچھلے انبیاء کے مقابلہ میں کچھ کم ہو جائیں گے۔ اس لئے غیر واقعی طور پر انہوں نے آپ کی ذات کے ساتھ بہت سے معجزے وابستہ کر دیئے۔ حالانکہ قرآن میں صراحتہ اس کی تردید موجود تھی۔ خود حدیث میں بھی اس کی صراحت موجود ہے کہ آپ کو اس قسم کے معجزے نہیں دیئے گئے۔ جس طرح کے معجزے پچھلے نبیوں کو دیئے گئے تھے۔ اس سلسلہ میں صحیح بخاری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader