ختم نبوت
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
اعتراف کی آخری صورت تعریف و ستائش ہے اس لئے اس کو ’’مقام محمود‘‘ کہا گیا۔ مقام محمود کی یہ آیت کی دور کے آخر میں اتری اس وقت اسلام مستحکم نہیں ہوا تھا۔ بعد کو اللہ تعالیٰ نے حالات میں ایسی تبدیلیاں پیدا کیں کہ دین اسلام ہر اعتبار سے کامل طور پر مستحکم ہو گیا......... قرآن اس طرح محفوظ ہو گیا کہ اب اس میں تحریف یا تبدیلی کا کوئی امکان نہیں، سنت نبوی کتابوں میں مدون ہو گئی، پیغمبر اسلام ﷺ کی شخصیت خالص تاریخی معیار پر ایک مسلم اور معترف شخصیت بن گئی۔ ایک عظیم امت اور بے شمار ادارے دین اسلام کی حفاظت پر قائم ہو گئے وغیرہ وغیرہ۔ جب خدا کا دین اس طرح محفوظ اور مستحکم ہو جائے تو پیغمبر کی ذاتی موجودگی کے بغیر بھی یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ خدا کے دین کو پوری طرح سمجھا جا سکے اور اس پر عمل کیا جا سکے۔ اس طرح کے واقعات پیش آنے کے بعد انسانیت جہل کے اندھیرے میں نہیں رہتی بلکہ علم کے اجالے میں آ جاتی ہے۔ کسی بھی طالب کے لئے خدا کی مرضی کو جاننا پوری طرح سہل اور ممکن ہو جاتا ہے یہی مقصد پیغمبر کی بعثت کا ہے اور جب مقصد بعثت حاصل ہو رہا ہو تو نیا نبی آخر کس لئے بھیجا جائے۔۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader