فطرت پر اعتماد
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
فطرت پر اعتماد محمد ﷺ اپنے ۲۳ سالہ عمل کے ذریعہ عرب میں جو انقلاب لائے اس کا نتیجہ صرف یہی نہیں ہوا کہ قدیم سیاسی نظام بدل گیا۔ اس سے زیادہ بڑا واقعہ وہ تھا جو انسانی سوچ کی سطح پر پیش آیا۔ جو لوگ اس سے پہلے مشرک تھے وہ موحد بن گئے۔ جو لوگ سرکش تھے وہ مطیع فرمان بن گئے۔ جن کی سوچ مقامی حدود میں بند تھی وہ بین الاقوامی پیغام کے علمبردار بن گئے۔ جن کو لڑنے بھڑنے کے سوا کچھ اور نہ آتا تھا وہ امن اور انسانیت کے مبلغ بن کر دنیا میں پھیل گئے۔ جن کی خود اپنی کوئی تاریخ نہ تھی انھوں نے اٹھ کر اقوام عالم کی تاریخ بنائی۔ محمد ﷺ اس قسم کا انوکھا انقلاب لانے میں کس طرح کامیاب ہوئے۔ دوبارہ اس کا جواب یہی ہے کہ اس نوعیت کا انقلاب لانے کے لئے ایک بہت بڑی قربانی درکار ہے۔ یہ قربانی وہی ہے جس کو آج کل کی زبان میں رسک لینا کہا جا سکتا ہے۔ اس دنیا کا اصول یہ ہے کہ ............. "جتنا بڑا رسک اتنی بڑی کامیابی" انسان کو بدلنا اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے، اس لئے جو شخص انسانوں کو بدلنا چاہے اس کو بھی مشکل ترین رسک لینا پڑتا ہے۔ عالم اسباب کے اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ محمد ﷺ نے اس معاملہ میں آخری درجہ کارسک لیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو آخری درجہ کی کامیابی حاصل ہوئی۔ یہاں اس بات کی وضاحت کے لئے دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ پہلی مثال وہ ہے جب کہ مکہ فتح ہو گیا۔ مکہ کے لوگوں کی اکثریت اب بھی مشرک تھی۔ یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے آپ کے ساتھ سخت ترین دشمنی کی تھی۔ انھوں نے آپ کو آپ کے وطن سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader