Urdu book · مطالعہ سیرت

فطرت پر اعتماد

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

نکالا تھا۔ انھوں نے آپ کے خلاف جارحانہ لڑائیاں تھیں۔ انھوں نے آپ کے بہت سے ساتھیوں کو قتل کیا تھا اور خود آپ پر ایک سے زیادہ بار قاتلانہ اقدام کیا تھا۔ ان کے دشمنانہ جرائم اتنے زیادہ تھے جس کی سزا معروف رواج کے مطابق یہی ہو سکتی تھی کہ ان سب کو قتل کر دیا جائے۔ ان کے ماضی کے جرائم کو معاف کیا جا سکتا تھا۔ مگر یہاں ایک اور خطرہ تھا جو اس سے بہت زیادہ بڑا تھا۔ وہ یہ تھا کہ یہ لوگ اگر چھوڑ دیے جائیں تو شدید ترین اندیشہ تھا کہ وہ دوبارہ منظم ہو کر اسلام کے خلاف سازشیں کریں گے اور مخالفین اسلام کو منظم کر کے دوبارہ اسلام کے خلاف جنگ چھیڑ دیں گے۔ یہ لوگ بیت اللہ میں لائے گئے۔ وہ لوگ وہاں اس طرح کھڑے تھے گویا کہ وہ اپنی موت کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر محمد ﷺ نے ان کے لئے سزا کے بجائے معافی کا اعلان کیا۔ آپ نے فرمایا: ’’جاؤ تم سب آزاد ہو‘‘ مگر جب آپ نے یہ رسک لیا تو جتنا بڑا رسک تھا اتناہی بڑا اس کا فائدہ بھی بر آمد ہوا۔ یہ فطرت پر اعتماد کا معاملہ تھا۔ تاہم وہ ایک شدید ترین رسک بھی تھا۔ اس واقعہ کے بارے میں راوی کہتے ہیں کہ اس غیر معمولی معافی کے بعد جب وہ لوگ بیت اللہ سے نکلے تو ان کا حال یہ تھا کہ گویا وہ قبروں سے نکلے ہوں، اور پھر وہ اسلام میں داخل ہو گئے(فخرجوا كانما نشروا من القبور فدخلوا في الاسلام) حياة الصحابة (١/ ١٧٥) فتح مکہ کے بعد جب یہ لوگ محمد ﷺ کے پاس آئے تو ان کی نفسیاتی حالت یہ تھی کہ وہ اپنی موت کو یقینی سمجھتے تھے۔ وہ اپنے کو اصحاب قبور میں شمار کر رہے تھے۔ ایسی حالت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page