Urdu book · مطالعہ سیرت

فطرت پر اعتماد

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

میں جب آپ نے ان کو معاف کر دیا تو یہ ایسا ہی تھا جیسے کسی مردہ کو دوبارہ زندگی دے دی جائے۔ محمد ﷺ نے انھیں معاف کر کے انھیں نئی زندگی دے دی تھی۔ یہ ان کے ساتھ اتنا بڑا احسان تھا کہ اس کے بعد وہ سرکشی کا تحمل نہیں کر سکتے تھے۔ نفسیاتی طور پر ان کے بس میں نہ تھا کہ اس اعلیٰ سلوک کے بعد بھی وہ بدستور سرکش بنے رہیں۔ انھوں نے محمد ﷺ کے دین کو قبول کر لیا۔ وہی لوگ جو اب تک آپ کے سب سے بڑے دشمن بنے ہوئے تھے اب وہ آپ کے سب سے بڑے دوست اور ساتھی بن گئے۔ بلاشبہ یہ انسانی تاریخ کا سب سے انو کھا واقعہ تھا، مگر وہ صرف اس وقت پیش آسکا جب کہ آپ نے تاریخ کا سب سے انو کھار سک لیا۔ دوسرا واقعہ جو میں یہاں پیش کرنا چاہتا ہوں وہ قبیلہ ہو ازن کا ہے جو فتح مکہ کے بعد پیش آیا۔ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مکہ سے طائف کے لئے روانہ ہوئے۔ راستہ میں قبیلہ ہو ازن کی آبادیاں پڑتی تھیں۔ آپ نے ان سے کوئی تعرض نہیں کیا اور نہ ان کے خلاف کوئی بات کہی۔ آپ کا راستہ ایک ایسے مقام سے گزرتا تھا جہاں دو طرف پہاڑیاں تھیں اور در میان میں ایک وادی تھی جس سے لوگ آتے جاتے تھے۔ جب آپ اور آپ کے ساتھی اس در میانی راستے میں پہنچے تو ہو ازن کے لوگوں نے دونوں طرف کی پہاڑیوں سے زبر دست تیر اندازی شروع کر دی۔ اس اچانک حملہ سے مسلمانوں میں سراسیمگی پھیل گئی۔ بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں، تاہم ابتدائی شکست کے بعد دوبارہ مسلمانوں کو فتح ہوئی اور ہو از ن کے چھ ہزار افراد گر فتار کر لئے گئے۔ یہ گر فتار شدگان مروجہ طریقہ کے مطابق سخت ترین سزا کے مستحق تھے، مزید اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page