فطرت پر اعتماد
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
بات کا شدید اندیشہ تھا کہ اگر انھیں چھوڑ دیا جائے تو وہ دوبارہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے خطرہ بنیں گے۔ اس اعتبار سے ان کی رہائی کا فیصلہ کرنا بلاشبہ بہت بڑا رسک لینا تھا۔ مگر محمد ﷺ نے یہ رسک لیا اور تمام کے تمام گرفتار شدگان کو غیر مشروط طور پر رہا کر دیا۔ یہاں تک کہ انھیں سواری اور زادِ راہ بھی دیا کہ وہ اطمینان کے ساتھ اپنے گھروں کو جاسکیں۔ مگر دوبارہ یہی ہوا کہ وہ سب کے سب اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ جو غیر معمولی سلوک کیا تھا، اس کے بعد وہ سرکشی کا تحمل نہیں کر سکتے تھے۔ اس کے بعد اگر وہ سرکشی کرتے تو ان کے اعصاب کی رگیں پھٹ جاتیں، ان کے لئے زندہ رہنا مشکل ہو جاتا۔ اس کے بعد تو وہ یہی کر سکتے تھے اور انھوں نے یہی کیا کہ محمد ﷺ کے دین کو اختیار کر لیا۔ وہ آپ کے لئے دشمن انسان کے بجائے دوست انسان بن گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر پیغمبر اسلام کو تاریخ سے حذف کر دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ایسی مثالیں بھی حذف ہو جائیں گی جو کسی ملک کے صرف ظاہری سیاسی ڈھانچہ کو نہیں بدلتیں، بلکہ خود انسان کو اندر تک بدل دیتی ہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی سنت کا ایک اہم جز فطرت انسانی پر اعتماد ہے۔ آپ کی پوری زندگی میں اس اصول پر عمل کرنے کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ انسان پتھر کی اسٹیچو کے مانند نہیں ہے بلکہ وہ اپنے سینہ میں فطرت کا ایک خزانہ لئے ہوئے ہے۔ یہ فطرت کسی انسانی شخصیت کا اہم ترین حصہ ہے، اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader