Urdu book · مطالعہ سیرت

فطرت پر اعتماد

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

ونفس وما سواها فالهمها فجورها وتقواها۔ (الشمس ۸:۷) (قسم ہے) انسان کی جیسا کہ اس کو درست بنایا۔ پھر اس کو سمجھ دی، اس کی بدی کی اور اس کی نیکی کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر آدمی پیدائشی طور پر یہ جانتا ہے کہ برا کیا ہے اور بھلا کیا، صحیح کیا ہے، اور غلط کیا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایک داعی کسی انسان کے سامنے جو دعوت پیش کرنے جا رہا ہے اس کا غیر شعوری علم یا اس کی مجہول معرفت انسان کو پیشگی طور پر حاصل ہے، داعی جب کسی انسان کو حق کی دعوت دیتا ہے تو گویا کہ وہ مدعو کی جانی ہوئی بات ہی کو اسے بتا رہا ہے۔ وہ مدعو کے لاشعور کو شعور میں لانا چاہتا ہے۔ یہ واقعہ داعی کے اندر یہ یقین پیدا کرتا ہے کہ میں جو پیغام مدعو کو دینے جا رہا ہوں اس پیغام کا ایک مثنیٰ پہلے ہی سے مدعو کے اندر موجود ہے۔ مدعو خود اپنی اندرونی فطرت کی بنا پر مجبور ہے کہ وہ حق کا اعتراف کرے ۔ یہ واقعہ داعی کو ہمیشہ مایوسی سے بچاتا ہے۔ وہ مدعو کی ظاہری بے توجہی یا اس کی مخالفت کو نظر انداز کر کے اس کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتا ہے اور یہ یقین رکھتا ہے کہ ایک نہ ایک دن مدعو ضرور اس کے پیغام پر لبیک کہے گا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی زندگی یقین کی ان مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ لوگوں کی ظاہری مخالفت کے باوجود ان کے بارے میں آپ کا یہ یقین کبھی متزلزل نہیں ہوا کہ آخر کار ان کا سینہ کھلے گا اور وہ آپ کے پیغام کو قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ بدترین مخالفتوں کے باوجود آپ نے ان لوگوں کے خلاف بد دعا نہیں کی جو بظاہر آپ کے دشمن بنے ہوئے تھے۔ بلکہ ہمیشہ ان کے حق میں ہدایت کی دعائیں کیں۔ مثلاً طفیل بن عمرو الدوسی مکہ آئے اور انھوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page