Urdu book · مطالعہ سیرت

فطرت پر اعتماد

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

قبول کیا۔ اس کے بعد وہ اپنے قبیلہ دوس کی بستیوں میں گئے اور انھیں توحید کی دعوت دی مگر ان لوگوں نے ان کی بات نہیں مانی حتیٰ کہ ان کے خلاف ظالمانہ سلوک کیا۔ وہ دوبارہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ اے خدا کے رسول قبیلہ دوس سرکش ہو گیا ہے اس کے خلاف بد دعا کیجیے۔ مگر رسول اللہ ﷺ نے نہ قبیلہ دوس کو برا بھلا کہا اور نہ ان کے خلاف بد دعا کی۔ اس کے برعکس آپ نے یہ کیا کہ دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھائے اور یہ فرمایا: اے اللہ دوس کے لوگوں کو ہدایت دے (اللھم اھد دوساً) سیرۃ ابن ہشام 1/ 409 دعا کے بعد آپ نے طفیل بن عمرو الدوسی سے فرمایا کہ تم اپنے قبیلہ کی طرف واپس جاؤ اور ان کی سختی کے باوجود ان کے ساتھ نرم گفتگو کرو، ان کی زیادتی کے باوجود ان کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرو۔ اس نصیحت کا راز یہی تھا کہ آپ یہ یقین رکھتے تھے کہ قبیلہ دوس کے لوگوں کا کیس کوئی مستثنیٰ کیس نہیں ہے، وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح انسان ہیں۔ خدا کی دی ہوئی فطرت ان کے اندر بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح وہ دوسرےوب کے اندر موجود ہے۔ فطرت پر آپ کا یہ یقین آخری حد تک درست تھا چنانچہ طفیل بن عمر والدوسی جب واپس گئے اور اپنے قبیلہ کو دوبارہ توحید کی طرف بلایا تو اس کا یہ معجزانہ نتیجہ بر آمد ہوا کہ دھیرے دھیرے قبیلے کے تمام مردو عورت دین توحید میں داخل ہوگئے۔ فطرت پر اعتماد پیغمبر اسلام کی ایک عظیم سنت ہے اور اس کی مثالیں آپ کی زندگی کے ہر دور میں اور ہر مرحلے میں پائی جاتی ہیں۔ مدنی دور میں جب اسلام کی آواز سارے عرب میں پھیل گئی اور قبائل کے وفود آکر اسلام قبول کرنے لگے، اس دور کے واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو طائف کے قبیلہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page