فطرت پر اعتماد
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
ثقیف سے تعلق رکھتا ہے۔ طائف کے قبیلہ ثقیف کا وفد نویں ہجری میں مدینہ آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اسلام کی تعلیمات بتائیں۔ وہ اسلام قبول کرنے پر راضی ہوئے مگر انھوں نے اپنی طرف سے بہت سی شرطین عائد کیں۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ ہم نماز پڑھیں گے اگرچہ وہ ایک دنائت کا فعل ہے۔ مگر نہ صدقہ دیں گے اور نہ جہاد کریں گے۔ اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے ان سے بیعت لے کر ان کو اسلام میں داخل کر لیا۔ کچھ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو ان کا جواب دیتے ہوئے آپ نے فرمایا یہ لوگ جب اسلام قبول کر لیں گے تو اس کے بعد وہ صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے(سيتصدقون ويجاهدون اذا اسلموا) سيرة ابن كثير ٥٦/٤ پیغمبر اسلام ﷺ اگر اہل ثقیف کے صرف موجودہ قول کو دیکھتے تو آپ کبھی اس طرح ان کو اسلام میں داخل نہ کرتے مگر آپ نے انسانی فطرت پر اعتماد کیا اور ان کو ان کے حال کے اعتبار سے دیکھنے کے بجائے ان کو ان کے مستقبل کے اعتبار سے دیکھا۔ آپ کا یہ اندازہ مکمل طور پر درست ثابت ہوا۔ چنانچہ قبیلہ ثقیف کے لوگ جلد ہی بعد پورے طور پر اسلام کے عامل بن گئے۔ انھوں نے اسلام کی تمام تعلیمات پر عمل کیا اور اس کو اپنی سعادت سمجھا۔ آپ کی اسی پالیسی کا نتیجہ تھا کہ آپ کو لوگوں کے خلاف تشدد کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ آپ نے دشمن کے ساتھ بھی ایسا معاملہ کیا جیسے کہ وہ آپ کا دوست ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار آپ نے یہ کامیابی حاصل کی کہ ایک پوری قوم میں ایسا انقلاب لائیں جس کو بلا شبہ غیر خونی انقلاب کہا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader