فطرت پر اعتماد
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے تمام انسانوں کو ایک فطرت پر پیدا کیا ہے، اور یہ تخلیقی فطرت کبھی بدلنے والی نہیں (روم ۳۰) یہی بات حدیث رسول میں اس طرح آئی ہے کہ ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے (كل مولود يولد على الفطرة ) تفسیر ابن کثیر ۳/ ۴۳۲ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اپنے بندوں کو سیدھے طریقے پر پیدا کیا ہے (اپنی خلقت عبادی حفاء) اس سے معلوم ہوا کہ تمام انسان پیدائشی طور پر ایک ہیں۔ کوئی بھی انسان ایسا نہیں کہ حق کی دشمنی اس کی فطرت کا اس طرح جزء ہو کہ دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا جا سکے۔ داعیانہ نقطہ نظر سے، یہ ایک بے حد اہم حقیقت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دائی اگر دیکھے کہ انسانی گروہ میں کچھ لوگ اس کے موافق اور کچھ لوگ اس کے مخالف ہیں تو دائی کو چاہئے کہ وہ اس فرق کو حقیقی نہ سمجھے۔ فطرت پر اعتماد کرتے ہوئے اس کا ذہن یہ ہونا چاہئے کہ موافق انسان اگر بالفعل طور پر اس کا ساتھی ہے تو مخالف انسان بالقوة طور پر اس کا ساتھی تھی۔ یہ ذہن دائی کو ابدی طور پر ایک پر امید انسان بنا دیتا ہے۔ مخالف انسان کے لئے بھی اس کے دل میں وہی خیر خواہی ہوتی ہے جو دوست انسان کے لئے اس کے دل میں ہوتی ہے۔ وہ بظاہر دشمن کو بھی یکساں طور پر اعتدال کی نفسیات کے تحت اپنا مخاطب بناتا ہے یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جبکہ اس کا دشمن بھی اس کا دوست بن جائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی اس آیت میں بیان کی گئی ہے۔ ولا تستوى الحسنة ولا السيئة ادفع بالتي هي احسن فاذا الذى بينك و بينه عداوة كانه ولى حميم (حم السجده ۳۴)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader