فطرت پر اعتماد
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھوگے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ دشمن کے دوست بننے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے وہ آگ تھا اب پانی ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ پہلے ہی سے پانی تھا۔ اس کی شخصیت کی سطح پر کچھ چیزیں اوپری طور پر جمع ہو گئی تھیں ۔ ان اوپری چیزوں کو داعی نے اپنے خیر خواہانہ سلوک سے ہٹا دیا۔ اس کے بعد اس کا حقیقی انسان ابھر آیا اور حقیقی شخصیت کی سطح پر ہر آدمی حق کا دوست ہی ہوتا ہے، وہ اس کا دشمن نہیں ہوتا۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں غیر مسلموں سے کام لیا اور ان سے فائدہ اٹھایا۔ ابو طالب کی وفات کے بعد جب آپ اپنے قبیلہ کی حمایت سے محروم ہو گئے تو آپ نے دوسرے قبائل کے پاس جا کر ان سے اپنے لئے حمایت چاہی حالانکہ اس وقت یہ قبائل مشرک تھے۔ طائف سے واپسی کے بعد آپ مکہ کے ایک مشرک سردار مطعم بن عدی کی حمایت میں دوبارہ مکہ میں داخل ہوئے۔ ہجرت کے سفر میں آپ نے مشرک عبداللہ بن ارقط کو اپنا گائیڈ بنایا۔ اس طرح کے مختلف واقعات ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بار بار غیر مسلموں پر بھروسہ کیا اور اپنے مقصد کے لئے ان کو استعمال فرمایا۔ انسانوں کو دوست اور دشمن کی تقسیم میں بانٹنا سنت رسول کے خلاف ہے اور اسی کے ساتھ وہ فطرت انسانی کے خلاف بھی۔ سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرت پر اعتماد اسلام کا ایک مستقل اصول ہے۔ اسلام کے مطابق ، لوگوں کے بولے ہوئے الفاظ یا ان کی کارروائیاں زیادہ قابل لحاظ نہیں۔ کیوں کہ یہ سب وقتی چیزیں ہیں۔ لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے اصل قابل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader