Urdu book · مطالعہ سیرت

مطالعہ سیرت

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

کی یہ حدیث قول فیصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ نبیوں میں سے ہر نبی کو ایسی نشانی دی گئی جس کو اس زمانہ کے لوگ مانتے تھے۔ اور مجھ کو وحی (قرآن) کا معجزہ دیا گیا۔ اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ قیامت میں مجھ پر ایمان لانے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔ ما من الانبیاء نبی الا اعطی من الآیات ما مثله امن عليه البشر وانما كان الذى اوتيته وحيا اوحاه الله الى فارجو ان اكون اكثرهم تابعا يوم القيامة۔(فتح الباری ٦١٩/٨) اصل یہ ہے کہ جن واقعات کو پیغمبر اسلام کے معجزات کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ وہ سب نصرت کے واقعات ہیں جو ہر مؤمن کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ اور وہ پیغمبر اسلام کو زیادہ اعلیٰ اور افضل صورت میں دیئے گئے۔ معجزہ ایک ایسے خارق عادت واقعہ کا نام ہے جو مخاطبین کے مطالبہ پر پیش کیا گیا ہو ۔ مثلاً عصاء موسیٰ کا معجزہ۔ مگر اس نوعیت کا کوئی معجزاتی واقعہ پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی میں ثابت نہیں۔ شق قمر کا واقعہ بھی کوئی مطالباتی معجزہ نہیں۔ بلکہ وہ ایک فلکیاتی نشانی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ فطرت کی دنیا میں بعض انوکھے واقعات پیش آتے ہیں۔ جن کو حق کا داعی اپنے پیغام کی صداقت کے ثبوت میں پیش کرتا ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے شق قمر کے فلکیاتی واقعہ کو اسی طرح ایک فلکیاتی نشانی کے طور پر پیش فرمایا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں ایسا نہیں ہوا کہ منکرین نے آپ سے مطالبہ کیا اور ان کے مطالبہ کے بعد آپ نے ان کے سامنے چاند کو دو ٹکڑے کرکے کہا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page