فطرت پر اعتماد
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
لحاظ چیز انسانی فطرت ہے۔ انسان بنیادی طور پر جس چیز کے تابع ہے وہ اس کی پیدائشی فطرت ہے۔ اس کے سوا جو چیزیں ہیں وہ سب وقتی اور عارضی ہیں، وہ انسانی سلوک کے معاملہ میں فیصلہ کن عنصر کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ سنت بتاتی ہے کہ خواہ انفرادی معاملہ ہو یا اجتماعی معاملہ، ہمیشہ یہ کرنا چاہیئے کہ ظاہری چیزوں کو نظر انداز کیا جائے۔ سب سے زیادہ اہمیت اس بات کو دی جائے کہ فطرت انسانی کا تقاضا کیا ہے۔ فطرت کی رعایت ہر قسم کی کامیابی کی یقینی ضمانت ہے۔ ایک شخص یا ایک گروہ اگر کسی بات پر مشتعل ہو جائے تو ایسے موقع پر اصل قابلِ لحاظ چیز اس کا اشتعال نہیں ہے۔ بلکہ اصل قابلِ لحاظ چیز یہ ہے کہ ظاہری اشتعال کے باوجود اس کی فطرت بدستور اپنے تخلیقی نقشہ پر قائم رہے۔ ایسی حالت میں اگر اشتعال کو نظر انداز کر کے فطرت کی رعایت کی جائے تو اپنے آپ مسئلہ ختم ہو جائیگا۔ اشتعال اچانک جاتا ہے گا اور اس کے بعد جو چیز بچے گی وہ عین وہی ہو گی جو ہمارا مطلوب ہے۔ یعنی انسانیت جس پر خدا نے فطرت کو قائم کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader