Urdu book · مطالعہ سیرت

اظہار رسال

Urdu book, p. 171

By Maulana Wahiduddin Khan

اظہارِ رسالت دور جدید کو اسلام کے لئے مسائل کا دور سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ بر عکس بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دور جدید در اصل دور اسلام تھا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کہ بارش کا زمانہ زراعت کا زمانہ ہوتا ہے۔ مگر مسلمان اپنی عدم معرفت کی بنا پر اس کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ اس لئے وہ جدید امکان کو اپنے حق میں استعمال بھی نہ کر سکے۔ وہ چیز جس کو قرآن میں اظہارِ دین کہا گیا ہے وہ کوئی وقتی واقعہ نہ تھا بلکہ وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اسلام کے ابدی غلبہ کا اعلان تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ افکار و نظریات کی دنیا میں ایسا انقلاب پیدا کیا جائے گا جو نظری حیثیت سے ہمیشہ کے لئے اسلام کو ظاہر و غالب کر دے۔ یہ امکان خدا کی طرف سے کھولا جاتا ہے مگر اس کو استعمال کر کے واقعہ کی صورت میں ڈھالنا یہ خود اہل اسلام کا کام ہے۔ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے ذریعہ ساتویں صدی میں جو انقلاب لایا گیا اس کا مقصد قرآن میں اظہارِ دین بتایا گیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے : وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کئے بغیر ماننے والا نہیں، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اسی نے اپنے رسول کو بھیجا ہے ہدایت اور دین حق کے ساتھ تا کہ اس کو سارے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو (التوبہ ۳۳- ۳۲) اظہار کے معنی عربی زبان میں غلبہ کے ہیں۔ یہاں اظہارِ دین سے مراد سیاسی غلبہ نہیں ہے بلکہ فکری غلبہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فکری اور نظریاتی اعتبار سے خدا کا دین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page