Urdu book · مطالعہ سیرت

اظہار رسال

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

برتر حیثیت حاصل کرلے، نظریاتی صداقت کسی اور دین کے حق میں باقی نہ رہے۔ خدا کے دین کو فکری غلبہ کا مقام عطا کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ دراصل ایک نئی تاریخ کو ظہور میں لانے کے ہم معنی ہے۔ با اعتبار واقعہ خدا کے دین کو برتر حیثیت ہی حاصل ہے مگر قدیم زمانے میں انسانی علوم وافکار کا ارتقا توہماتی خطوط پر ہوا۔ اس نے دین حق کی اس فطری حیثیت پر پردہ ڈال دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوئی کہ پیغمبر آخر الزماں کے ذریعہ ایک ایسا فکری انقلاب لایا جائے جو اس مصنوعی ناموافق صورت حال کو بدل دے۔ جس کے بعد خود علوم انسانی دین حق کی تصدیق کرنے والے بن جائیں۔ انسان کے خود اپنے مسلمہ علمی معیار کے مطابق دین توحید کو لوگوں کے لئے ثابت شدہ بنایا جاسکے۔ اس آیت میں اظہار دین سے مراد یہی ربانی منصوبہ ہے، پیغمبر اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ خدا کی تائید سے جو انقلاب آیا اس کے بعد تاریخ انسانی میں ایک نیا عمل (process) شروع ہوا۔ اس عمل کا مقصد یہ تھا کہ توہماتی پردے چاک ہو جائیں اور فطرت میں چھپی ہوئی وہ علمی شہادتیں سامنے آجائیں جن کے ذریعہ دین توحید کی صداقت کو نمایاں کرنا ممکن ہوسکے۔ موجودہ زمانہ میں یہ انقلاب اپنی آخری تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ اس اظہار دین کا مقصد خاص طور پر دو تھا۔ ایک طرف یہ کہ مذہبی جبر کا نظام ختم ہو جائے تا کہ دینی دعوت کا وہ کام آسان ماحول میں انجام پانے لگے جو پچھلے زمانوں میں صرف مشکل حالات میں انجام دیا جاسکتا تھا۔ دوسرا مقصد یہ کہ دلائل کی تمام طاقت صرف خدا کے دین کے حق میں اکٹھا ہو جائے۔ بقیہ تمام ادیان دلائل کی طاقت سے کامل طور پر محروم ہو جائیں۔ یہ دونوں کام موجودہ زمانہ میں بہت بڑے پیمانہ پر انجام پا چکے ہیں۔ ذیل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page