Urdu book · مطالعہ سیرت

اظہار رسال

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

میں مختصر اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ۱۔ قدیم زمانہ میں ساری دنیا میں بادشاہت کا نظام تھا۔ بادشاہت جیسا شخصی نظام صرف جبر کی طاقت سے قائم ہو سکتا تھا۔ اسی لئے تمام بادشاہوں نے ہر جگہ جبر کا نظام قائم کر رکھا تھا۔ وہ فکری یا مذہبی آزادی کو ہمیشہ کچل دیتے تھے۔ یہ حالت دینی دعوت کے لئے نیز انسانی فکر کے عمومی ارتقا کے لئے ایک مستقل رکاوٹ تھی۔ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے ذریعہ جو انقلاب لایا گیا اس نے اپنے وقت کے جابرانہ سیاسی نظام کو توڑ کر تاریخ میں آزادی اور جمہوریت کے دور کا آغاز کیا۔ اس انقلاب کے اثرات پر اس کے روپ میں تاریخ انسانی میں شامل ہو گئے۔ یہ عمل جاری رہا یہاں تک کہ موجودہ زمانہ میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ دعوت حق کے کام کو آزادی کے ماحول میں انجام دیا جا سکے۔ جس کو پہلے صرف جبر کے حالات میں انجام دینا ممکن ہوتا تھا۔ ۲۔ شرک توہماتی مذہب کا دوسرا نام ہے۔ قدیم زمانہ میں یہی شرک عالمی ذہن پر چھایا ہوا تھا۔ لوگ مکمل طور پر توہماتی افکار سے مغلوب تھے۔ سائنس کی ترقی نا ممکن ہو گئی تھی۔ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر نے توہماتی نظام کو ختم کر دیا۔ اس طرح انہوں نے علمی طرز فکر کا دروازہ کھولا اور سائنس کے دور کا آغاز کیا۔ یہ تبدیلی ایک پر اس کی صورت میں تاریخ میں جاری رہی۔ یہاں تک کہ موجودہ زمانہ میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گئی۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی انقلاب نے اسلامی دعوت کے حق میں نئے عظیم امکانات کھول دئے ہیں۔ ۳۔ سائنسی انقلاب جو دراصل اسلامی انقلاب ہی کی ایک ضمنی پیداوار (by-product) تھا اس کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ وہ چیز وجود میں آئی جس کو جدید کمیونی کیشن کہا جاتا ہے۔ اس نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page