اظہار رسال
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
دور کے ظہور نے تاریخ میں پہلی بار اس کو ممکن بنا دیا کہ اسلام کی اشاعت کا کام عالمی سطح پر انجام دیا جاسکے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا جب کہ اللہ کا کلمہ دنیا کے تمام گھروں میں داخل ہو جائے گا۔ (مسند احمد) یہ بالواسطہ انداز میں اسی جدید کمیونی کیشن کے دور کی پیشین گوئی ہے۔ کیوں کہ ان ذرائع کے حصول کے بغیر اسلام کی عالمی اشاعت سرے سے ممکن ہی نہ ہوتی۔ ۴۔ جدید سائنسی انقلاب ہی کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ نئے نئے دلائل اسلامی عقائد کی تائید میں حاصل ہو گئے۔ پہلے اسلام کے داعی اسلام پر صرف روایتی دلائل قائم کر سکتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں یہ ممکن ہو گیا کہ اسلامی حقیقوں کو خود علم انسانی کے مسلمہ معیار پر ثابت شدہ بنایا جاسکے۔ ۵۔ قدیم زمانہ میں مذہب کا مطالعہ مقدس انداز میں صرف اعتقادی طور پر کیا جا سکتا تھا۔ اس لئے معتبر اور غیر معتبر مذہب کا فرق علمی طور پر الگ الگ نہیں ہوا تھا۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی انقلاب کے اثر سے مذاہب کا مطالعہ اسی طرح بے لاگ تنقیدی انداز میں کیا جانے لگا جس طرح دوسری تمام چیزوں کا تنقیدی انداز سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس تنقیدی جائزہ نے خالص علمی سطح پر یہ ثابت کر دیا کہ تاریخی طور پر صرف اسلام ہی ایک معتبر مذہب ہے۔ دوسرے تمام مذاہب تاریخی اعتبار یت (historical credibility) سے محروم ہیں۔ اس فکری انقلاب کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ اسلام کی صداقت کو خالص علم انسانی کے معیار پر ثابت شدہ بنایا جاسکے۔ دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں اس کے واحد صداقت ہونے کو مدلل کیا جاسکے۔ ان جدید انقلابات نے موجودہ زمانہ میں اسلام کو بلا مقابلہ فتح (unopposed victory)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader