Urdu book · مطالعہ سیرت

اظہار رسال

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

کے مقام تک پہنچا دیا ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ مسلمان مدعو قوم کے خلاف تشدد اور نفرت کی ہر کارروائی کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیں تاکہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہوں اور نارمل حالات میں لوگوں کو اسلام کا مخاطب بنایا جا سکے۔ اس نئی صورت حال کے بعد یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اسلام اور غیر اسلام کے درمیان سنجیدہ اور مفید ڈائیلاگ شروع کیا جا سکے جس کا نتیجہ لازمی طور پر صرف اسلام کے حق میں ظاہر ہوگا۔ ایک عظیم امکان ا۔ دین کے غیبی عقائد پر چونکہ براہ راست استدلال قائم نہیں کیا جا سکتا، وہ صرف بالواسطہ استدلال یا استنباطی استدلال کے ذریعہ ثابت کئے جا سکتے ہیں۔ اس سے اہل علم یہ سمجھنے لگے تھے کہ دینی حقائق صرف اعتقاد سے تعلق رکھتے ہیں وہ علمی حقیقتیں نہیں۔ مگر موجودہ زمانہ میں ایٹم کے ٹوٹنے کے بعد علم منطق میں جو تبدیلی آئی اس کے بعد مان لیا گیا کہ استنباطی استدلال بھی، اپنی نوعیت کے اعتبار سے اتنا ہی معقول اور معتبر (valid) ہے جتنا کہ براہ راست استدلال۔ اس کے بعد دینی حقیقتوں کو اسی علمی سطح پر ثابت کرنا ممکن ہو گیا جس سطح پر غیر مذہبی یا مادی نظریات ثابت کئے جاتے ہیں۔ ۲۔ قدیم زمانہ میں انسان جب دنیا پر نظر ڈالتا تھا تو اس کو بظاہر دکھائی دیتا تھا کہ یہاں طرح طرح کی اشیاء ایک دوسرے سے بالکل مختلف نوعیت کی پائی جاتی ہیں۔ یہ مشاہدہ اپنے ظاہر کے اعتبار سے شرک کا ذہن پیدا کرتا تھا۔ لوگ سوچنے لگے کہ جب اشیاء متعدد ہیں تو ان کا خالق بھی متعدد ہوگا۔ مگر سائنسی مطالعہ سے ثابت ہوا کہ یہ فرق اور تنوع صرف ظاہری ہے۔ ورنہ تمام اشیاء ایک ہی مادہ کا مختلف ظہور ہیں۔ اس طرح شرک کے حق میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page