Urdu book · مطالعہ سیرت

اظہار رسال

Urdu book, p. 176

By Maulana Wahiduddin Khan

فکری بنیاد ختم ہو گئی اور توحید کے حق میں فکری بنیاد قائم ہو گئی۔ ۳۔ قرآن کے بیان کے مطابق، یہاں آفاق و انفس میں خدا کی نشانیاں چھپی ہوئی تھیں ۔ سائنس کے مطالعہ نے ان کو ظاہر اور معلوم بنا دیا (تم السجدہ ۵۳) یہاں تک کہ کائنات دلائل ربانی کی ایک عظیم کتاب بن گئی۔ ۴۔ سائنس کی نئی دریافتوں کے بعد بہت سی ایسی چیزیں انسان کے علم میں آئی ہیں جنھوں نے دینی اہمیت رکھنے والے واقعات کو نئے دلائل سے ثابت کرنا ممکن بنا دیا ہے۔ مثلاً کاربن ۱۴ ڈیٹنگ نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ ریمسس دوم (فرعون موسیٰ) کی ممی کی ہوئی لاش کی عمر ٹھیک ٹھیک معلوم کی جائے اور اس طرح قرآن کے اس بیان کی سائنسی تصدیق فراہم ہو سکے جس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے فرعون کے جسم کو محفوظ رکھا تھا تا کہ وہ بعد کے انسانوں کے لئے نشانی بن سکے (یونس ۹۲) اسلام اور دور حاضر اسلام پورے معنوں میں ایک پر امن مذہب ہے۔ ایسی حالت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسا اسلام جو امن کی تعلیم دیتا ہو، کیا وہ دور حاضر کے لئے ریلیونٹ (relevant) ہے۔ کیا وہ نئے حالات میں اپنے لئے دوبارہ برتر حیثیت حاصل کر سکتا ہے۔ اس کا جواب مکمل طور پر اثبات میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا ایک پرامن مذہب ہونا بتاتا ہے کہ وہ ایک ابدی مذہب ہے، اگر وہ وائلنس کا مذہب ہوتا تو وہ ابدی نہ ہوتا۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ میں فکر جدید کے نزدیک وائلنس کا طریقہ مکمل طور پر رد ہو چکا ہے۔ اب انسانی ذہن صرف کسی ایسے ہی سسٹم کو قابل غور یا قابل قبول سمجھ سکتا ہے جس کی تعلیمات امن اور نان وائلنس پر مبنی ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page