اظہار رسال
Urdu book, p. 177
By Maulana Wahiduddin Khan
جدید ذہن نے کمیونزم کو رد کر دیا۔ اس کی کم از کم ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ کمیونزم تشدد میں یقین رکھتا ہے۔ اور تشدد جدید ذہن کے لئے کسی بھی حال میں قابل قبول نہیں۔ اس طرح دوسرے تشدد پسند نظریات مثلاً نازی ازم اور فاشزم بھی اسی بنیاد پر رد کئے جا چکے ہیں۔ جدید انسان مذہب ہی یا غیر مذہب ہی انتہا پسندی (extremism) کو اس لئے ناپسند کرتا ہے کہ وہ انسان کو آخر کار تشدد کی طرف لے جاتی ہے۔ مگر اسلام ایک فطری مذہب ہے۔ اس میں اول دن ہی سے تشدد اور وائلنس کو غیر مطلوب قرار دیا گیا ہے۔ اسلام اول دن ہی سے امن کا علم بردار رہا ہے نہ کہ تشدد کا۔ ماضی میں اسلام نے انسانی تعمیر کے لئے ایک عظیم رول ادا کیا۔ جس کے نتیجہ میں انسانی تاریخ نے ترقیاتی دور میں داخل ہوئی۔ آج وقت آگیا ہے کہ اسلام ایک بار پھر اپنا تعمیری رول ادا کرے اور انسانی تاریخ کو دوبارہ ترقی کے نئے دور میں داخل کرے۔ وہ چیز جس کو سائنسی یا ٹیکنکل ترقی کہا جاتا ہے، وہ نیچر کی دریافت کا نتیجہ ہے۔ یہ نیچر ہمیشہ سے ہماری دنیا میں موجود تھی، پھر اس کی دریافت میں اتنی دیر کیوں گی، جو سائنسی ترقی پچھلے چند سو سال سے نظر آئی ہے وہ ہزاروں سال پہلے کیوں ظہور میں نہ آسکی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ قدیم زمانہ میں مذہب اور سائنس (علم الہی اور علم انسانی) ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ اس طرح مذہب ہی دار و گیر سائنس کی ترقی میں ایک مستقل رکاوٹ تھی۔ اسلام نے یہ کیا کہ مذہب کو (جو عملاً توہماتی عقائد کا مجموعہ بن گیا تھا) سائنسی تحقیق کے عمل سے جدا کر دیا۔ مثلاً چاند گرہن اور سورج گرہن کو انسانی تقدیر کے ساتھ جوڑ دیا گیا تھا۔ پیغمبر اسلام نے اعلان کیا کہ گرہن کا انسانی تقدیر سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تمام تر فلکیاتی واقعات ہیں نہ کہ تقدیری واقعات (فتح الباری ۲/ ۶۱۱)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader