Urdu book · مطالعہ سیرت

اظہار رسال

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

کھجوروں کی پالی نیشن (تابیر نخل) کے مشہور واقعہ میں پیغمبرِ اسلام نے اعلان فرمایا کہ اس طرح کے معاملات میں تم اپنے تجربہ کے مطابق عمل کرو۔ کیوں کہ ان امور کو تم زیادہ جانتے ہو (صحیح مسلم بشرح النووی ۱۵/۱۷۱) یہ مذہب اور سائنس کو ایک دوسرے سے جدا (delink) کر دیتا تھا۔ اس طرح سائنسی تحقیق کو اپنے عمل کے لئے آزادی کا ماحول مل گیا۔ اس کے بعد تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ سائنسی علم مذہب کی مداخلت کے بغیر آزادانہ طور پر ترقی کرنے لگا۔ اور تدریجی طور پر آگے بڑھتے ہوئے موجودہ حالت تک پہنچ گیا۔ آج انسان دوبارہ ایک اور شدید تر مسئلہ سے دوچار ہے ۔ وہ یہ کہ سائنس اور ٹکنالوجی میں غیر معمولی ترقی کے باوجود انسانی زندگی طرح طرح کے مسائل میں مبتلا ہے، اور اس سے چھٹکارے کا کوئی راستہ اس کو نظر نہیں آتا۔ یہ جدید مسئلہ ایک لفظ میں، آزادی کی حد کو نہ جاننے کا مسئلہ ہے۔ جدید انسان نے آزادی کو ایک خیر اعلیٰ کی حیثیت سے دریافت کیا، مگر وہ آزادی کی حد کو دریافت نہ کر سکا۔ چنانچہ آزادی اس کے یہاں لامحدود آزادی کی صورت اختیار کر کے انار کی اور بے قیدی کے ہم معنی بن گئی۔ موجودہ زمانہ میں مغربی سماج میں پیدا ہونے والے تمام مسائل کا اصل سبب یہی ہے۔ اب انسان کو ایک ایسی آئیڈیالوجی کی ضرورت ہے جو انسانی آزادی کی حد کو بتائے، جو مطلوب آزادی اور غیر مطلوب آزادی کے درمیان خط کھینچ سکے۔ اس قسم کی آئیڈیالوجی صرف اسلام فراہم کر سکتا ہے۔ آج بہترین وقت آ گیا ہے کہ انسان کو اسلام کی یہ آئیڈیالوجی پیش کی جائے اور وہ اس کو دل کی آمادگی کے ساتھ قبول کر لے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page