Urdu book · مطالعہ سیرت

اظہار رسال

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

کمیونزم کے سقوط (۱۹۹۱) کے بعد ساری دنیا میں ایک نظریاتی خلا (ideological vacuum) پیدا ہو گیا ہے۔ یہ خلا صرف اسلام پر کر سکتا ہے۔ موجودہ دنیا میں ایسے ملک ہیں جو اقتصادی سپر پاور یا فوجی سپر پاور کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ مگر آئیڈیالوجیکل سپر پاور کی جگہ خالی ہے اور وہ امکانی طور پر صرف اسلام کا حصہ ہے۔ اسلام کے حق میں اس عظیم امکان کو واقعہ بنانے میں صرف ایک رکاوٹ ہے۔ اور وہ موجودہ زمانہ کی مسلم تحریکوں کا متشددانہ رخ اختیار کر لینا ہے۔ ان تحریکوں نے اسلام کو دنیا کے سامنے ایک تشدد پسند مذہب (وائلنٹ ریلیجن) کے روپ میں پیش کیا۔ اس بنا پر آج کا انسان اسلام سے بدکتا ہے۔ وہ معتدل ذہن کے ساتھ اسلام کا مطالعہ نہیں کر پاتاج اگر اس مصنوعی صورت حال کو ختم کر دیا جائے اور اسلام کو دوبارہ ایک نان وائلنٹ مذہب یا میں فل سسٹم کے انداز میں دنیا کے سامنے لایا جائے تو دوبارہ انسانیت اس کو اپنے دل کی آواز پا کر اسے قبول کر لے گی۔ جدید انسان کو ایک نئے مذہب یا نئے سسٹم کی تلاش ہے۔ ایک ایسا سسٹم جس کی تعلیمات امن پر مبنی ہوں، جو توہماتی عقائد سے خالی ہو، جس میں گہرے نفسیاتی سوالات کے جوابات موجود ہوں، جو سائنسی حقیتوں سے ٹکراتا نہ ہو، جو اپنے پیچھے ایک کامیاب تاریخ رکھتا ہو۔ اس قسم کا مذہب آج اسلام کے سوا اور کوئی نہیں۔ یہ صرف اور صرف اسلام ہے جو ان تمام شرطوں پر پورا اترتا ہے۔ انفرادی طور پر آج بھی بہت سے مرد اور عورت ہیں جنہوں نے اسلام کا مطالعہ کرنے کے بعد اسلام کی اس خصوصیت کا اعتراف کیا ہے۔ ان میں سے ایک تعداد وہ ہے جو نظری طور پر اسلام کی اس صفت کا اعتراف کرتی ہے۔ اور ایک تعداد وہ ہے جس نے اس سے آگے بڑھ کر باقاعدہ طور پر اسلام قبول کر لیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page