Urdu book · مطالعہ سیرت

مطالعہ سیرت

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

کچھ اصحاب کے ساتھ مکہ میں تھے (نہ کہ مشرکین کے ساتھ) اس وقت یہ واقعہ ہوا کہ یہ دکھائی دیا کہ چاند دو ٹکڑے ہو گیا ہے۔ اس کو دیکھ کر آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ اس کو دیکھو یہ ایک خدائی نشانی ہے (تفسیر ابن کثیر ۲/ ۲۶۲۔ ۲۶۳) یہ ایسا ہی تھا جیسے موجودہ زمانہ میں ریڈیو سیٹ کھولا جائے اور اس سے آوازیں نکلنے لگیں تو ایک شخص لوگوں سے کہے کہ دیکھو اس مثال سے تم سمجھ سکتے ہو کہ زمین کس طرح قیامت میں خبریں سنائے گی جس کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے (یومئذ تحدث اخبارها) سیرت کے مطالعہ کے اس اسلوب کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ پیغمبر کی متواضع تصویر لوگوں کو کمتر نظر آئی۔ اس لئے انہوں نے پیغمبر کی ایسی تصویر بنا ڈالی جس میں ان کے اپنے خیال کے مطابق پیغمبر اونچا نہ دکھائی دے۔ یہی وجہ ہے کہ سیرت کی موجودہ کتابوں کو پڑھ کر آپ کی جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک جنگجو انسان تھے نہ کہ صلح جو انسان، آپ کا بھروسہ تلوار کی طاقت پر تھا نہ کہ امن کی طاقت پر، آپ دشمنوں کو کچلنے میں یقین رکھتے تھے نہ کہ ان کو دوست بنانے میں، آپ ہر وقت باطل سے ٹکرانے کے لئے تیار رہتے تھے، باطل سے سمجھوتہ کرنا آپ کے مزاج کے خلاف تھا، آپ کی پالیسی ہمیشہ اقدام کی ہوتی تھی نہ کہ صبر کی، آپ کا طریقہ ناحق کو مٹانے کا تھا نہ کہ اس سے سمجھوتہ کرنے کا، وغیرہ۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی یہ تصویر سراسر فرضی ہے۔ آپ کی زندگی کے گہرے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ آخری حد تک ایک امن پسند انسان تھے۔ آپ ہمیشہ حکمت وتدبیر کے تحت عمل کرتے تھے نہ کہ جنگ وتصادم کے تحت۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی کو سمجھنے میں ایک رکاوٹ سنت کا محدود مفہوم بھی ہے۔ ہمارے یہاں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ آپ کی سنتیں کیا کیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page