اظہار رسال
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوہ ایکٹوزم اسلامک ایکٹوزم اپنے متحد کے اعتبار سے نان وائلنس پر مبنی ہے اور اپنے نشانہ کے اعتبار سے دعوت پر۔ دعوت حقیقۃ اسلام کی اشاعت کے لئے پر امن جدوجہد کا نام ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلامک ایکٹوزم دراصل دعوہ ایکٹوزم ہے۔ دعوت کا کام سادہ کام نہیں۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو کلیدی عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کام کو بھر پور طور پر انجام دیا جائے تو بقیہ تمام مطلوبات اپنے آپ حاصل ہو جائیں گے۔ اس سلسلہ میں قرآن کے چند حوالے یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔ ۱۔ دعوت کے ذریعہ اغیار کے شر کے مقابلہ میں خدا سے حفاظت حاصل ہوتی ہے۔ (المائدہ ۶۷) ۲۔ دعوت کے ذریعہ دشمن بھی دوست بن جاتا ہے۔ (حم السجدہ ۳۴) ۳۔ دعوت کے ذریعہ اسلام کی نظریاتی برتری ثابت ہوتی ہے۔ اور بلاشبہ نظریاتی برتری سے زیادہ بڑی چیز اور کوئی نہیں۔ (یونس ۳۲) ۴۔ دعوت کے ذریعہ امت کے اندر مثبت مزاج پیدا ہوتا ہے۔ جس کو قرآن میں نصح اور امانت کہا گیا ہے۔ (الاعراف ۶۸) ۵۔ دعوت کا کام انسان کے ذریعہ انجام پاتا ہے مگر اس کے لئے موافق حالات خدائے برتر کی طرف سے مہیا کئے جاتے ہیں۔ جس طرح بارش خدا کی طرف سے ہوتی ہے مگر زراعت کا عمل کسان کو انجام دینا پڑتا ہے۔ اب اہل اسلام کا کام یہ ہے کہ وہ دوسرے بے نتیجہ کاموں میں اپنی طاقت صرف نہ کریں۔ وہ اپنی ساری قوت دعوہ ورکہ میں لگا دیں۔ تمام بہترین نتائج اسی عمل کے ذریعہ بر آمد ہوں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader