اظہار رسال
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام اور ان کے ساتھ تقریباً دو سو اصحاب مکہ سے اس حال میں نکلے تھے کہ مکہ کے سرداروں نے ان کا مکہ میں رہنا نا ممکن بنا دیا تھا۔ حتیٰ کہ وہ پیغمبر اسلام کے قتل پر آمادہ ہو گئے تھے۔ مگر مکہ سے مدینہ پہنچ کر آپ نے وہاں جو پہلی تقریر کی اس میں نہ کوئی تلخی تھی اور نہ اہل مکہ کے خلاف انتقامی تشدد کی کوئی بات۔ (ملاحظہ ہو سیرۃ ابن ہشام، الجزء الثانی صفحہ ۱۹۔ ۱۱۸) آپ نے مدینہ پہنچ کر سب سے زیادہ اہمیت کے ساتھ جو کام کیا وہ یہ تھا کہ اطراف کے تمام قبائل سے امن کا معاہدہ کرنا شروع کیا مثلاً بنو خزاعہ وغیرہ۔ یعنی یہ کہ نہ تم ہمارے خلاف لڑو گے اور نہ ہم تمہارے خلاف لڑیں گے۔ ان امن معاہدات میں عرب کے بیشتر قبائل شامل ہو گئے۔ البتہ قریش مکہ نے جارحیت پر اصرار کیا اور عملی طور پر چند جنگی اقدام بھی کئے۔ مگر آخر کار ہجرت کے چھٹے سال آپ نے حدیبیہ کے مقام پر ان سے بھی امن کا معاہدہ کر لیا۔ اگر چہ یہ معاہدہ قریش کی یک طرفہ شرائط پر کیا گیا تھا۔ اسلام پورے معنی میں ایک امن پسند مذہب ہے۔ اگر دوسرے لوگ تشدد اور بے امنی کی فضا پیدا کریں تو اسلام کا تقاضا ہے کہ ایسے موقع پر جوابی تشدد نہ کیا جائے بلکہ رد عمل سے بچتے ہوئے ایسی مثبت کارروائی کی جائے کہ اہل اسلام اور غیر اہل اسلام کے درمیان امن قائم ہو سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام انسانی سماج میں جن مقاصد کو فروغ دینا چاہتا ہے وہ صرف پر امن ماحول ہی میں برروئے کار لائے جا سکتے ہیں۔ تشدد اور ٹکراؤ کی منفی فضا میں اسلام کا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader