امن کی طاقت
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں دار السلام (امن کا گھر) بتایا گیا ہے۔ (الانعام ۱۷) وغیرہ۔ قرآن کا پورا مزاج اسی تصور کی حمایت کرتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں صبر کو بے حد اہمیت دی گئی ہے۔ حتیٰ کہ صبر واحد اسلامی عمل ہے جس پر استثنائی طور پر بلا حساب اجر کا وعدہ کیا گیا ہے۔ (الزمر ۱۰) صبر در اصل پر امن رد عمل کا نام ہے اور اس کے مقابلہ میں بے صبری متشددانہ رد عمل کا نام، صبر اپنی حقیقت کے اعتبار سے عین وہی چیز ہے کو موجودہ زمانہ میں نان وائلنس کہا جاتا ہے۔ صابرانہ عمل کا مطلب نان وائلنٹ عمل ہے۔ حدیث میں یہ بات مزید صراحت کے ساتھ آئی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام نے فرمایا: ان الله يعطى على الرفق مالا يعطى على العنف (سنن ابی داؤد ٤ / ٢٥٥) اس حدیث میں عنف کے مقابلہ میں رفق کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ عین وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں عنف اور لاعنف کہا جاتا ہے۔ اس حدیث میں واضح طور پر عنف (وائلنس) کے مقابلہ میں لاعنف (نان وائلنس) کی ابدی فوقیت بتائی گئی ہے۔ رفق (non-violence) پر خدا وہ دیتا ہے جو وہ عنف (violence) پر نہیں دیتا۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ بلکہ نہایت وسیع اور گہری بات ہے۔ اس میں فطرت کے ایک اٹل قانون کو بتایا گیا ہے ۔ خود فطرت کے قانون کے تحت ایسا ہے کہ تمام بری چیزیں وائلنس کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں اور تمام اچھی چیزیں نان وائلنس کے ساتھ وابستہ ہیں۔ متشددانہ سرگرمیاں (وائلنٹ ایکٹوزم) سماج میں نفرت کو جنم دیتی ہیں اور پر امن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader