امن کی طاقت
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
رد عمل کا اندیشہ ہو، بلکہ وہاں سے آغاز کیا جائے جہاں پرامن طور پر اپنی تحریک جاری رکھنے کی امید ہو۔ جس وقت قرآن میں اقرا کا حکم آیا اس وقت اسلامی تحریک کے لئے آغاز کار کے اعتبار سے مکہ میں کئی option موجود تھے۔ مثلاً کعبہ میں رکھے ہوئے ۳۶۰ بتوں کو نکالنے سے آغاز۔ مگر ایسی صورت میں قریش کی طرف سے یقینی طور پر تشدد دانہ رد عمل پیش آتا۔ دار الندوة (مکہ کی پارلیمنٹ) میں سیٹ حاصل کرنے کی کوشش۔ عرب کے اطراف میں رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کا تسلط۔ لیکن اگر ان کے تسلط سے آزادی کو نقطۂ آغاز بنایا جاتا تو فوراً ہی سخت قسم کے جوابی تشدد کا سامنا پیش آتا۔ اس قسم کے مختلف option کو چھوڑ کر قرآت قرآن کا option لیا گیا جس کے بارے میں یقین تھا کہ وہ پر امن طور پر جاری رکھا جا سکتا ہے۔ اور اس کو کرنے کی صورت میں کوئی پر تشدد رد عمل بھی سامنے آنے والا نہیں۔ پیغمبر اسلام نے اپنی پوری زندگی میں اسی اصول کو اختیار فرمایا۔ آپ کی پالیسی گویا وائلنٹ متھڈ کے مقابلہ میں نان وائلنٹ متھڈ کو اختیار کرنے کی پالیسی تھی۔ یہی وہ چیز ہے جس کو آپ کی اہلیہ عائشہ صدیقہ نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا: رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو امر میں سے ایک امر کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ مشکل کے مقابلہ میں آسان کا انتخاب فرماتے (ما خير رسول الله ﷺ بين امرين الا اخذ ايسرهما) فتح الباری ٦٥٤/٦) نان وائلنٹ ایکٹوزم کے فائدے نان وائلنٹ ایکٹوزم کا ایڈوانٹیج وائلنٹ ایکٹوزم پر کیا ہے ۔ وہ مختصر طور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader