امن کی طاقت
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
توڑنا ہے۔ ایک سسٹم کو توڑ کر دوسرے سسٹم کو لانا، یہ وائلنٹ میتھڈ کے ذریعہ ممکن نہیں۔ اس کے بر عکس نان وائلنٹ میتھڈ چونکہ تدریجی طور پر عمل کرتا ہے اس لئے اس کے ذریعہ یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک نظام کو دوسرے نظام سے مبدل (replace) کیا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ وائلنس کی بنیاد پر چلنے والی تحریکیں صرف ایک یا دوسری قسم کا حکومتی بدلاؤ (coupe) لانے پر ختم ہو جاتی ہیں۔ وہ چیز جس کو انقلاب (revolution) کہا جاتا ہے وہ صرف اس تحریک کے ذریعہ ممکن ہو سکتا ہے جس کو نان وائلنس کی بنیاد پر چلایا جائے۔ کامیابی نان وائلنٹ میتھڈ کے ذریعہ اسلام کے دور اول میں اور اس کے بعد اسلام کو جو بڑی کامیابیاں ہوئیں وہ سب نان وائلنٹ میتھڈ کے ذریعہ حاصل ہوئیں۔ یہاں مثال کے طور پر چند کامیابیوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ ۱۔ پیغمبر اسلام کے ابتدائی ۱۳ سالہ دور کو مکی دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں مکمل طور پر نان وائلنس یا پیسفرم کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ اس وقت مکہ میں متعدد ایسے اشو موجود تھے جو ٹکراؤ کا موضوع بن سکتے تھے۔ مگر پیغمبر اسلام نے ہر ایسے اشو سے اعراض کرتے ہوئے اپنے آپ کو پرامن تبلیغ کے دائرہ میں محدود رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس دور میں دعوہ ورک اپنی پوری طاقت کے ساتھ انجام دیا جاسکا۔ اسی ۱۳ سالہ دعوۃ ورک کے مختلف فائدوں میں سے ایک عظیم فائدہ یہ تھا کہ اسی دور میں وہ تمام بہترین افراد ملے جنھوں نے اسلام کی تاریخ بنائی۔ مثلاً ابو بکر، عمر، عثمان، علی، رضی اللہ عنہم وغیرہ ۲۔ مکہ میں جب وہاں کے سردار آپ کے خلاف جنگ پر آمادہ ہو گئے تو اس وقت بھی آپ نے جوابی انداز اختیار کرنے کے بجائے یہ کیا کہ خاموشی کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader