امن کی طاقت
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
ہجرت اپنی نوعیت کے اعتبار سے بلاشبہ نان وائلنٹ ایکٹوزم کی ایک مثال ہے۔ اس پر امن تدبیر نے رسول اور آپ کے ساتھ ہجرت کرنے والے تقریبا دو سو اہل ایمان کو یہ موقع دیا کہ وہ مدینہ پہنچ کر وہاں اسلام کا ایک طاقتور سینٹر بنا سکیں ۔ اگر وہ پرامن ہجرت کے بجائے مسلح مقابلہ کا طریقہ اختیار کرتے تو شاید اسلام کی تاریخ مکہ میں شروع ہو کر دوبارہ مکہ ہی میں دفن ہو جاتی۔ ۳۔ ہجرت کے بعد آپ کے مخالفین نے یکطرفہ طور پر جنگ چھیڑ دی۔ اس کے نتیجہ میں بدر اور احد جیسے خونی واقعات پیش آئے۔ اس وقت آپ نے دوبارہ فریق مخالف کی شرطوں کو قبول کر کے دس سال کا معاہدہ امن (peace treaty) کر لیا۔ جو اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس واقعہ کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے۔ (الفتح ۔1) یہی صلح ہے جس کے بعد وہ پرامن تعمیری عمل جاری ہو سکا جس نے آخر کار مکہ اور عرب کی تسخیر کو ممکن بنا دیا۔ ۴۔ خلافت راشدہ کے آخر میں بنو ہاشم اور بنو امیہ کے درمیان خونی ٹکراؤ پیش آیا۔ اس کے نتیجہ میں اسلام کا اقدام (advancement) دس سال کے لئے رک گیا۔ اس اقدام کو دوبارہ جس چیز نے کھولا وہ حسن بن علی (وفات ۵۰ھ) کی جنگ سے واپسی تھی جو بلاشبہ نان وائلنس ایکٹوزم ہی کی ایک عملی صورت ہے۔ حسن بن علی کے اس پرامن اقدام نے اسلام کے لئے ترقی کے دروازے دوبارہ کھول دیے۔ ۵۔ خلافت عباسیہ کے آخری زمانہ میں منگول قبائل نے مسلم دنیا پر حملہ کیا اور سمرقند سے لے کر حلب تک پورے علاقہ کو تباہ کر دیا۔ بظاہر اسلام کی تاریخ رکتی ہوئی نظر آنے لگی۔ اس وقت مسلمانوں میں پرامن دعوہ ورگ ابھرا۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader