Urdu book · مطالعہ سیرت

مطالعہ سیرت

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں۔ جن چیزوں کو ان کتابوں میں بطور سنت درج کیا گیا ہے ان کو لوگ سنت سمجھتے ہیں جب کہ ان کے علاوہ اور بہت سی چیزیں ہیں جن کو ہماری کتابوں میں بطور سنت درج نہیں کیا گیا حالانکہ وہ آپ کی اہم ترین سنت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان کا انتخاب فرماتے (ما خیر رسول اللہ ﷺ بین امرین الا اختا ر ايسرهما ) اس سے معلوم ہوا کہ اختیار اعسر ایک غیر مسنون فعل ہے، اور اس کے مقابلہ میں اختیار ایسر ایک مسنون فعل۔ مگر کسی بھی کتاب میں آپ کے اس طریقہ کو بطور سنت درج نہیں کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان عام طور پر اختیار ایسر کو چھوڑ کر اختیار اعسر کا طریقہ اپنا رہے ہیں اور اس طرح غیر مسنون فعل کو عین اسلام سمجھے ہوئے ہیں، صرف اس لئے کہ اس روش کا اندر اج ہماری کتابوں میں بطور سنت موجود نہیں۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی ایک اہم سنت یہ تھی کہ آپ ہمیشہ یہ کرتے تھے کہ بالفعل جو صورت حال موجود ہو اس کو چھیڑے بغیر اپنے لئے عمل کا راستہ نکالتے تھے۔ مثلاً مکی دور میں کعبہ میں بتوں کی موجودگی سے تعرض کئے بغیر لوگوں کو توحید کی دعوت دینا وغیرہ۔ آپ کی اس سنت کو قرآن میں صبر کہا گیا ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو اسٹیٹس کو ازم کہا جا سکتا ہے۔ مگر یہ سنت سنن رسول کی کتابوں میں درج نہیں، نہ اسٹیٹس کو ازم کے نام پر اور نہ کسی دوسرے نام پر۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں عام طور پر یہ مزاج بن گیا ہے کہ جب وہ بظاہر کسی خلاف حق بات کو دیکھتے ہیں تو فورا وہ اس سے لڑ جاتے ہیں اور اس کو بطور خود اسلامی جرأت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page